سماعت کے دوران فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خرم پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ملزم، جو نجی اسپتال میں بطور ڈرائیور کام کرتا تھا، ملازمت سے نکالے جانے کے بعد سیکیورٹی گارڈ کے ساتھ مل کر متاثرہ ڈاکٹر کے گھر کے واش روم میں خفیہ کیمرے نصب کیے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے نازیبا ویڈیو بنا کر خاتون ڈاکٹر سے 25 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا، جس پر ایف آئی اے نے ڈاکٹر کے بیٹے کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔
ملزم کے وکیل نے موقف اپنایا کہ وہ دس ماہ سے جیل میں ہے اور اصل حقائق ٹرائل میں سامنے آئیں گے، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم کا مبینہ عمل سنگین نوعیت کا ہے اور وہ رعایت کا مستحق نہیں، لہٰذا اس کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی۔