جمعیت علمائے اسلام کے رکن بلوچستان اسمبلی اور قبائلی رہنماء نوابزادہ میر ظفر اللہ خان زہری نے کہا کہ بی ایل اے اور دیگر مزاحمتی تنظیمیں مجھ سے اسلحہ چھیننے سے پہلے مجھے قتل کریں مگر میں اتنی آسانی سے اسلحہ نہیں دوں گا۔
رکن اسمبلی نوابزادہ میر ظفر اللہ خان زہری نے اسمبلی اجلاس سے واپس جانے کے دوران اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب سے رابطے میں ہوں تو اسے ثابت کرنے کے لئے میرے خلاف ایک جی آئی ٹی بنائی جائے۔
انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی میں اس میں اس بات کا تعین کیا جائے کہ آیا میں ان کے ساتھ ہوں کہ نہیں۔ میں خود ڈر کر جہاز میں سفر کرکے آیا ہوں بلکہ میں بشیر زیب سے کہتا ہوں کہ وہ یہاں اچھے کمانڈر بھیجے جو بلوچ کی عزت کرنا جانتا ہو اور میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ جب بھی میرظفر اللہ ان کے ہھتے چڑھے وہ انہیں گولی مار دے۔
رکن اسمبلی نوابزادہ میر ظفر اللہ خان زہری نے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری رکن اسمبلی لیاقت لہڑی کو اس بات کی سزا دی گئی کہ وہ سرفراز بگٹی کابینہ کا حصہ ہے اور اس سے اسلحہ چھینا گیا۔ مجھ سے اسلحہ دینے کی بات نہ کی جائے اور نہ میں ایسا ہونے دوں گا اسلحہ لینے سے پہلے وہ مجھے قتل کر دے نہ کہ میں انہیں ماروں یا کسی بلوچ بچے کو ماروں۔
انہوں نے کہا کہ میں خود ڈر رہا ہو نے سوراب قلات کا دھرنا ختم کرایا اور جہاز سے واپس یہاں مگر یہاں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رٹ نہیں ہے۔ میں بچپن سے سن رہا ہو کہ اے سی صاحب ضلع گشت پر ہے۔ ایف سی، لیویز اور پولیس کے پاس وہ وسائل نہیں ہیں جو وہ گشت کریں۔ گشت تو بلکہ ڈاکٹر اللہ نظر اور بشیر زیب کے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں رکن اسمبلی نوابزادہ میر ظفر اللہ خان زہری نے کہا کہ کوئی وزیر جائے رات کا سفر کرے میں دیکھوں میں ڈرکرجہاز کے ذریعے سفر کر کے یہاں آیا۔ کالعدم تنظیمیں پاکستان کے اتنے بڑے صوبے میں کھبی مشرق میں تو کھبی مغرب میں اور کھبی جنوب میں تو کھبی شمال میں حملے کرتے ہیں۔