وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ خیبرپختوںخوا سے افغانوں کو نکالنے کی پالیسی کے حق میں نہیں ہوں، افغانوں کو موت کے منہ میں دھکیلنا انسانیت کی تذلیل سے بھی زیادہ گھٹیا عمل ہے، میں وہی کروں گا جو میری پالیسی اور روایات کے مطابق ہوگ، خیبرپختونخوا کی پولیس دہشت گردی کے خلاف بہترین کام کررہی ہے اس پر کسی کی تنقید برداشت نہیں کروں گا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جب سے صوبے کا انتظام سنبھالا، صوبے کے خزانے میں صرف 15 دن کی تنخواہوں کے پیسے موجود تھے، ہم نے بغیر کسی نئے ٹیکس کے ٹیکس ریونیو میں 55 فیصد اضافہ کیا، ہم نے ایک روپے قرضہ نہیں لیا 50 ارب قرضہ اتارا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے کے انڈومنٹ فنڈ میں 30 ارب روپے ڈال چکے ہیں، صوبے کے ہائیڈل پراجیکٹس ہر کام شروع ہے 2028 تک 500 میگا واٹ بجلی بنائیں گے، کارخانوں کو سستی بجلی دینے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
علی امین گنڈا پور نے بتایا کہ اسکالرشپس کو ڈبل کیا گیا، زکواة کو 12 ہزار سے 25 ہزار اور بچی کی شادی کے فنڈ کو 25 ہزار سے دو لاکھ روپے تک بڑھایا گیا ہے، دسمبر تک انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے اداروں کو خود مختار بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی مائننگ میں اربوں کا نقصان ہورہا تھا ہم نے 4 ساٹٹس سے 5 ارب کمائے، نظام کے اندر پیسہ موجود تھا مگر کن کی جیبوں میں جارہا تھا یہ اب اندازہ لگالیں، جو باتیں میں نے بتائیں کوئی اسکو چیلنج کرنا چاہتا ہے ہم تیار ہیں، ہمارے بہت سارے منصوبے جو 2018 میں مکمل ہونے تھے اب تک نہیں کیے گئے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے پریس کانفرنس کے دوران صوبے کو درپیش چیلنجز، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، مالی مشکلات اور حکومتی پالیسیوں پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کو سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کا سامنا ہے اور جونہی انہوں نے عہدہ سنبھالا، پہلے ہفتے میں ہی اس مسئلے پر بات کی۔
علی امین گنڈا پور نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے دور میں امن و امان کی صورتحال بہتر تھی، اُس کے بعد پوری ریاست اور ادارے ایک پارٹی کو ختم کرنے میں لگ گئے، اپنا کام چھوڑ دیا اس کا آج یہ نتیجہ نکل رہا ہے، ہمارے سرحدی علاقے وہ ہیں جنہوں نے ماضی میں سپر پاورز کو شکست دی اور ان علاقوں میں امن قائم رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا موازنہ سندھ اور پنجاب سے کرنا درست نہیں کیونکہ یہاں کے حالات اور چیلنجز مختلف ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نااہل قیادت کی غلط پالیسیوں کے سبب صوبہ موجودہ مشکلات کا شکار ہے۔
مالی معاملات پر بات کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے کے بقایاجات دو ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی مالی معافی دینے کے حق میں نہیں ہیں، کیونکہ یہ عوام کا پیسہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صوبے کو اس کے واجبات ادا نہ کیے گئے تو احتجاج ہوگا اور یہ احتجاج سیاسی نہیں بلکہ ریاستی ہوگا۔
انہوں نے پولیس کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پولیس دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے اور بلوچستان کی صورتحال کے برعکس یہاں ریاست کا عمل دخل موجود ہے۔ تاہم، پولیس کی تنخواہوں میں اضافے اور مزید سہولیات فراہم کرنے کے لیے فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔
افغان مہاجرین کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختوںخوا نے کہا کہ مہاجرین کو زبردستی نکالنے کے حق میں نہیں ہیں اور اس طرح انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دینا انسانیت کی تذلیل کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ حکومت نے ان مہاجرین کو بے دخل کرنے کی پالیسی اپنائی جس سے ان کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔
وفاق کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ جب بھی کسی اجلاس میں جاتے ہیں، انہیں تنہا کر دیا جاتا ہے، اور وہ واحد نمائندہ ہوتے ہیں جو خیبرپختونخوا کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ افغان مہاجرین ہمارے پڑوسی ہیں اور انہیں ہم نے سینے سے لگایا تاہم پالیسی کے حوالے سے ہم ناکام رہے ہیں۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ افغان مہاجرین کو بے عزت کر کے واپس نہیں بھیجنا چاہیے اور انہیں زبردستی ڈی پورٹ کرنے سے گریز کرنا چاہیئے، افغان مہاجرین کو پاکستان کی شہریت کیوں نہیں دی جاتی، انہوں نے مذاکرات کا عمل شروع کرنے کی کوشش کی مگر ان کے اس اقدام پر تنقید کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو افغان ہمارے صوبہ میں ہین ان کونکالنے کا مخالف ہوں، افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے وزارت خارجہ اور داخلہ کو ٹی او آرز بھیجے ہیں مگر ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا جبکہ میری مذاکرات والی بات پر تنقید کی گئی اور اُسے مذاق میں لیا گیا۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ مولانا حامد الحق کے قتل کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ مفتی منیرشاکر کی زمہ داری ایک گروپ نے قبول کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے حالات عمران خان حکومت میں خراب نہیں تھے لیکن ایک پارٹی کو ختم کرنے کے چکرمیں سب داؤ پرلگا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے حالات خراب ہوئے ہیں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات مرکزی حکومت اوراداروں کی نااہلی سے خراب ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آرمی چیف سے امن وامان کی صورت حال پر بات کرچکا ہوں اورکوئی ساتھ نہیں دیتا، یہ لوگ اب بھی پی ٹی آئی کوتوڑنے میں لگے ہوئے ہیں، فارم 45 والوں کو اقتدارمیں لانا جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے لیکن کوئی پرواہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈرامے کی بات کرنے پربھی ایف آئی آر کردی گئی ہے، حالات پرپردہ نہیں ڈالنا چاہیے ورنہ 71 والے حالات بن سکتے ہیں، ان حالات میں ہم کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ طورخم بارڈر کی بندش سے ماہانہ ایک ارب کانقصان ہمیں ہورہا ہے تجارت تباہ ہورہی ہے۔ جوپالیسیاں ناکام ہوگئی ہیں انھیں چھوڑکر ٱگے برھنا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 20 لاکھ افراد گزشتہ ایک سال مین ملک سے باہر جاچکے ہیں، تیمورسلیم جھگڑا اورکامران بنگش پر عمران سے بات ہوئی کمیٹی کی رپورٹ آنے پر فیصلہ ہوگا۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کاوقت نہیں دیاجاتا، ایک سالہ کارکردگی کی بنیاد پر کابینہ میں ردوبدل ہوگا، رپورٹ میرے پاس آچکی یے عمران خن کودوں گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کاجوبھی پرویز خٹک سے ملاقات کرے گا تو وہ پارٹی میں نہیں رہے گا، میں نے محمودخان سے پارٹی سے جانے سے پہلے بات کی تھی اورانہیں منع بھی کیا تھا مگر انہوں نے بات نہیں مانی، پرویز خٹک نے بے شرمی کی ہے۔