میری کسی پوسٹ یا بیان سے ڈائریکٹر ایف آئی اے کی تذلیل ہوئی تو میرا ایسا کوئی رجحان نہیں تھا، نادیہ حسین

0 minutes, 0 seconds Read

ادکارہ نادیہ حسین نے ایف آئی اے پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جعلسازوں نے مجھ سے پیسے مانگے، چاہتی ہوں جعلساز کو پکڑا جائے اور اسے سزا ملے۔

نادیہ حسین نے کہا کہ یہ جعلسازہم جیسے شہریوں جن کو مدد کی ضرورت ہو ان کا شکارکرتے ہیں، جعلسازوں نے اپنی کارروائی اوررابطہ واٹس ایپ کے ذریعے کیا ہے، وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ ہمیں واٹس ایپ پر کال کریں۔

اداکارہ نے میڈیا کو بتایا کہ میں نہیں جانتی کہ وہ کیسے پکڑے جائیں گے، اگر میری کسی پوسٹ یا بیان سے ڈائریکٹر ایف آئی اے کی تذلیل ہوئی تومیرا ایسا کوئی رجحان نہیں تھا، میرا مقصد صرف جعلسازی کو ہائی لائٹ کرنا تھا۔

نادیہ حسین نے کہا کہ نہیں چاہتی کہ یہ جعلساز باآسانی اپنی کارروائی جاری رکھیں، سائبرکرائم ڈیپارٹمنٹ نے تاحال فرانزک مکمل نہیں کی، میرا فون ابھی بھی ان کے پاس ہے، اس سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں، میراخیال ہے اداروں اورمجھے مل کر آگاہی پیغام کی ویڈیو بنانی چاہئے، اگر کسی کو ایسی جعلسازکالزآتی ہیں تو ایف آئی اے میں رپورٹ کریں

نادیہ حسین کی ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل میں پیشی

اس سے قبل معروف اداکارہ و ماڈل نادیہ حسین ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کے دفتر پہنچ گئیں۔ نادیہ حسین اپنے وکیل کے ہمراہ ایف آئی اے کے دفتر پہنچیں۔

نادیہ حسین کو آج ایف آئی کی جانب سے طلب کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 14 مارچ کو ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کی ٹیم نے معروف ماڈل اور اداکارہ نادیہ حسین کا موبائل فون سیز کر دیا تھا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ جس شخص نے سینئر ایف آئی اے افسر کی ڈی پی واٹس ایپ پر لگا کر ایف آئی اے افسر بن کر نادیہ حسین سے بات کی اور ان سے رشوت مانگی موبائل فون سے اس کا پتہ لگایا جائے گا۔

نادیہ حسین کے خلاف سائبر کرائم سرکل میں انکوائری جاری ہے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ نادیہ حسین نے شکایت درج کروانے کے بجائے سوشل میڈیا پر ایف آئی اے کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے۔

کروڑوں روپے کے بینک فراڈ کا معاملہ

قبل ازیں سٹی کورٹ کراچی میں کروڑوں روپے کے بینک فراڈ کیس میں اداکارہ نادیہ حسین کے شوہر کے شریک ملزم فیصل محمودعدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے ملزم کی عبوری ضمانت میں 24 مارچ تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرتفتیشی افسرسے رپورٹ طلب کر لی۔

ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ فیصل محمود کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے، فیصل محمود شیخ 2016 سے 2019 تک چیف فنانس آفیسر رہے۔

بیرسٹر اسد اشفاق نے کہا کہ یہ وائٹ کالر کرائم ہے، تفتیش میں سب سامنے آ جائے گا، جب ملزم عہدے پر تھا تو یہ جرم ہو رہا تھا۔

وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ عاطف خان کے کسی جرم سے سہیل محمود شیخ کا تعلق نہیں۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے بینک سیکیورٹیز ہیڈ کی شکایت پر مقدمہ درج کیا۔

Similar Posts