زرعی آمدن پر ٹیکس کی شرح کو کارپوریٹ سیکٹر کے برابر کر دیا گیا، کتنی آمدن پر کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟

0 minutes, 0 seconds Read

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول کے لیے اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں، جن میں پالیسی سطح کے امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، پاکستان نے آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر عملدرآمد مکمل کر لیا ہے اور اس حوالے سے مشن کو تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ زرعی انکم ٹیکس سے متعلق قانون سازی کے بارے میں رپورٹ آئی ایم ایف کو پیش کر دی گئی ہے، جس کے تحت زرعی آمدن پر ٹیکس کی شرح کو کارپوریٹ سیکٹر کے مساوی کر دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے بجلی نرخوں میں کمی کے حکومتی پلان کو گرین سگنل دے دیا

تمام چاروں صوبوں نے زرعی انکم ٹیکس سے متعلق قانون سازی مکمل کر لی ہے اور ٹیکس کی شرح بھی مساوی طور پر نافذ کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، قانون سازی کے مطابق زرعی آمدن پر درج ذیل ٹیکس لاگو ہوگا:

  • 6 لاکھ روپے سالانہ آمدن تک کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔
  • 6 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 15 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
  • 12 سے لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 90 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور 12 لاکھ سے زائد آمدن پر 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
  • 16 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 1 لاکھ 70 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور 16 لاکھ سے زائد آمدن پر 30 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
  • 32 سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 6 لاکھ 50 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور 32 لاکھ سے زائد آمدن پر 40 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
  • 56 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن پر 16 لاکھ 10 ہزار روپے ٹیکس اور 56 لاکھ سے زائد آمدن پر 45 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

حکومت کی قرض کیلئے آئی ایم ایف کو 5 سے 7 ادارے بیچنے کی یقین دہانی، اخبار کا دعویٰ

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نئے ٹیکس ڈھانچے کے تحت زرعی شعبے میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور محصولات میں اضافے کی توقع ہے، جو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کا ایک اہم جزو ہے۔

Similar Posts