میر رضا کے قتل کی رات کیا ہوا؟ والد اور والدہ کا تحقیقاتی کمیشن میں تفصیلی بیان
سندھ ہائیکورٹ میں میر رضا قتل کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی دوسری سماعت ہوئی، جس میں میر رضا کے والدین پیش ہوئے اور اپنے بیٹے کے لاپتا ہونے سے لے کر اس کی تلاش کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بارے میں کمیشن کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔
سماعت کے دوران کمیشن نے میر رضا کی والدہ سے استفسار کیا کہ انہیں پہلی مرتبہ کب احساس ہوا کہ ان کا بیٹا لاپتا ہے۔
میر رضا کی والدہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے کے دوست نے صبح 4 بج کر 14 منٹ پر فون کیا اور بتایا کہ میر رضا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ ہوچکے ہیں۔ والدہ کے مطابق میر رضا کی منگیتر بھی بار بار فون کررہی تھی، جس کے بعد وہ شدید پریشان ہوگئیں۔
والدہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو صبح 4 بج کر 28 منٹ پر اٹھایا، جبکہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد گھر والوں کی تشویش مزید بڑھ گئی۔
انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ حیسم اور رازق ایک سافٹ ویئر ہاؤس میں کام کرتے ہیں۔ رازق نے انہیں بتایا تھا کہ وہ طارق روڈ جاکر میر رضا کا پتا کرتا ہے۔ ان کے مطابق میر رضا کا منیجر بھی اسے تلاش کررہا تھا۔
سماعت کے دوران میر رضا کے والد نے بتایا کہ انہوں نے پولیس ایمرجنسی 15 پر کال کرکے بیٹے کے لاپتا ہونے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور بعد ازاں فیروزآباد تھانے گئے۔
والد کے مطابق پولیس نے اس وقت کہا کہ ممکن ہے ان کا بیٹا ناراض ہوکر کہیں چلا گیا ہو۔ جبران ناصر نے بتایا کہ جب اہلخانہ تھانے پہنچے تو صبح تقریباً سوا 6 بجے کا وقت تھا۔
میر رضا کے والد نے بتایا کہ 15 پر اطلاع دینے کے باوجود پولیس کی جانب سے کوئی موبائل ٹیم بھی نہیں پہنچی تھی۔ اس دوران قریبی دفتر کی فوٹیج حاصل کی گئی، جس میں میر رضا کی گاڑی نظر آئی۔
انہوں نے بتایا کہ فوٹیج میں ایک سفید رنگ کی گاڑی دکھائی دی، جس میں میر رضا موجود تھا، جبکہ پڑوسی شکیل کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی میر رضا کو پیدل چلتے ہوئے دیکھا گیا۔ والد کے مطابق اس فوٹیج میں وقت صبح 4 بج کر 8 منٹ ظاہر ہورہا تھا۔
میر رضا کے والد نے مزید بتایا کہ انہوں نے اے ایس آئی رضوان کی مدد سے جنرل اسٹور کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی، جس میں میر رضا کو ایک گاڑی میں سوار ہوتے دیکھا جاسکتا تھا۔
ان کے مطابق مذکورہ گاڑی خالد بن ولید روڈ پر غلط سمت میں مڑ گئی تھی، جس کے بعد اہلخانہ خود گاڑی کو ٹریس کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔
والد نے بتایا کہ ان کے بھائی نے اسلام آباد سے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا، جس کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔ ان کے مطابق تقریباً ساڑھے 4 بجے مقدمہ درج ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ نعمان نامی شخص کو بھی ان کے ساتھ بھیجا گیا تھا، جو مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرنے کا کام کررہا تھا۔
جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے دوران میر رضا کے والدین نے بیٹے کے لاپتا ہونے کے ابتدائی لمحات، پولیس سے رابطے، سی سی ٹی وی فوٹیجز کے حصول اور گاڑی کی تلاش سے متعلق تفصیلات کمیشن کے سامنے رکھیں۔
میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن کی دوسری سماعت جاری ہے، جس میں کیس سے متعلق مختلف پہلوؤں اور اہلخانہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔