چین کی کمیونسٹ پارٹی کی اصطلاح ‘لانگ مارچ’ پاکستانی سیاست کا اہم ہتھیار کیسے بنی؟
پاکستان میں وفاقی حکومت کو دباؤ میں لانے کے لیے دارالحکومت کی جانب ’لانگ مارچ‘ سیاسی مزاحمت کا ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے۔ گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں، وکلا اور دیگر طبقات نے اسلام آباد کا رُخ کیا۔ ان میں سے بعض لانگ مارچ فوری مذاکرات پر ختم ہوئے، بعض دھرنوں میں تبدیل ہوئے، بعض حکومتوں پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہے جب کہ کچھ اپنے بنیادی مطالبات حاصل کیے بغیر ہی ختم ہوگئے۔
ستمبر 2026 میں وفاقی دارالحکومت ایک بار پھر احتجاجی سیاست کی زد میں ہے۔ پاکستان تحریک اںصاف (پی ٹی آئی) نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق اس احتجاج کا بنیادی مطالبہ عمران خان کی رہائی ہے۔
جماعت اسلامی نے بھی پٹرولیم مصنوعات پر عائد ’لیوی ٹیکس‘ کے خاتمے کے لیے کراچی سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا تھا، جسے فی الحال وفاقی حکومت کی درخواست پر عارضی طور پر مؤخر کیا گیا ہے۔
پاکستان کسان اتحاد نے بھی بجلی کے بلوں اور فصلوں کی مناسب سرکاری قیمتوں کے تعین سمیت دیگر مطالبات کے حصول کے لیے ستمبر کے آخری ہفتے میں اسلام آباد میں ڈیرے ڈالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
اسلام آباد کی سڑکوں پر رکاوٹیں، کنٹینرز، پولیس کی بھاری نفری اور احتجاجی قافلوں کی آمد کوئی نئی بات نہیں بلکہ دارالحکومت کے رہائشی کبھی انتخابات میں دھاندلی، کبھی مہنگائی اور کبھی کسی اور معاملے پر احتجاجی قافلوں کی آمد پر اس صورتِ حال کا کئی مرتبہ سامنا کر چکے ہیں۔ ان میں سے کئی احتجاج ایسے ہیں جو مختلف حوالوں سے یاد رکھے جاتے ہیں۔
پاکستان کے مشہور ’لانگ مارچز‘ کا تذکرہ کرنے سے قبل یہ جاننا بھی اہم ہے کہ سیاسی یا مزاحمتی تحریکوں میں لفظ ’لانگ مارچ‘ پہلی دفعہ کب اور کہاں استعمال ہوا۔
مشہور انسائیکلوپیڈیا ویب سائٹ ’براٹینیکا‘ کے مطابق یہ اصطلاح پہلی مرتبہ چین کی خانہ جنگی کے دوران سامنے آئی تھی، تاہم وہ ’لانگ مارچ‘ سیاسی احتجاج یا دھرنا نہیں بلکہ اپنی بقا اور جان بچانے کے لیے کیا گیا طویل ترین اور کٹھن سفر تھا جو چین کے انقلابی رہنما ماؤزے تنگ نے اپنی کمیونسٹ فوج کو چیانگ کائی شیک کی حکومت سے بچانے کے لیے کیا تھا۔
یہ دنیا کی فوجی تاریخ کا طویل ترین سفر مانا جاتا ہے جو اکتوبر 1934 میں شروع ہو کر اکتوبر 1935 میں ختم ہوا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق 9 سے 10 ہزار کلومیٹر طویل اس سفر کے دوران کمیونسٹوں نے انتہائی کٹھن حالات میں 24 دریاؤں، 18 برفانی پہاڑی سلسلوں اور خطرناک دلدلی علاقوں کو عبور کیا، اس سفر کے بعد صرف 10 فیصد لوگ ہی زندہ بچے تھے جو انتہائی سخت جان اور نظریاتی طور پر مضبوط ہو چکے تھے، ان ہی سپاہیوں نے آگے چل کر جاپانی حملہ آوروں اور قوم پرست حکومت کو شکست دے کر جدید چین کی بنیاد رکھی تھی۔

چینی زبان میں اس تاریخی واقعے کو ’چانگ ژینگ‘ یعنی ’طویل مہم یا سفر‘ کہا جاتا ہے۔ امریکی صحافی ایڈگر سنو نے جب 1937 میں چین کے انقلابیوں پر مشہورِ کتاب ’Red Star Over China‘ لکھی تو انہوں نے چینی لفظ ’چانگ ژینگ‘ کا ترجمہ ’Long March‘ کیا اور یہیں سے یہ لفظ مزاحمت اور احتجاج کی علامت کے طور پر استعمال ہونا شروع ہوگیا۔
پاکستان کی احتجاجی سیاست میں لفظ ’لانگ مارچ‘ کے پہلی مرتبہ استعمال کا سہرا محترمہ بینظیر بھٹو کو جاتا ہے۔
پاکستان کا پہلا ’لانگ مارچ‘
نومبر 1992 کا یہ لانگ مارچ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کسی لیڈر نے سیاسی احتجاج کو باقاعدہ ’لانگ مارچ‘ کا نام دیا اور اسلام آباد کے شہریوں نے غیر معمولی حالات کا سامنا کیا۔
سنہ 1990 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم سیاسی اتحاد ’پاکستان ڈیموکریٹک الائنس‘ کو شکست کے بعد نوازشریف پہلی مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے۔
بے نظیر بھٹو جو اس وقت قائد حزبِ اختلاف تھیں، نے نواز حکومت پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گٹھ جوڑ سے بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کیا اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ملک بھر سے کارکنان کو راولپنڈی اور اسلام آباد پہنچنے کی کال دے دی۔
حکومت نے لانگ مارچ کے آغاز سے قبل ہی بے نظیر بھٹو کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بند اور شہر کو مکمل طور پر سیل کر دیا تھا۔

اس لانگ مارچ نے ملکی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا تھا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد میدانِ جنگ بنا رہا اور یوں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت دارالحکومت کی سیکیورٹی کا انتظام پاک فوج کے حوالے کر دیا۔
گو کہ یہ لانگ مارچ نوازشریف کی حکومت کو فوری طور پر نہیں گراسکا تھا تاہم سیاسی بحران نے نتیجے میں صدر غلام اسحاق خان نے 1993 میں قومی اسمبلی تحلیل کر دی، جسے سپریم کورٹ نے بحال تو کیا تاہم چند ماہ بعد ہی فوج کی مداخلت پر نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان دونوں کو مستعفی ہونا پڑا اور نئے انتخابات کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیر اعظم بن گئیں۔
آل پاکستان شیعہ کنونشن-1980
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اسلام آباد کا رُخ کرنے والا پہلا بڑا ’مارچ‘ جولائی 1980 میں اس وقت کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے ایک فیصلے کے خلاف کیا گیا تھا۔
حکومت نے جون 1980 میں زکوٰۃ اور عشر آرڈیننس متعارف کرایا تھا۔ اس قانون کے تحت بینکوں کو اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کی لازمی کٹوتی کا پابند کیا گیا تھا۔ جس کے بعد نامور شیعہ عالم اور تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ کے سربراہ مفتی جعفر حسین نے اسلام آباد میں ’زکوٰۃ کنونشن‘ کے نام سے منعقد پروگرام میں ملک بھر سے شیعہ عمائدین اور عوام کو مدعو کیا۔
اس کنونشن کے بعد شیعہ علما کے وفد کے حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو یہ کنونشن احتجاجی مارچ میں تبدیل ہو گیا اور مظاہرین نے وفاقی سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کر لیا۔
احتجاج کی شدت اور سرکاری امور میں تعطل پر حکومت کو بالآخر مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرنا پڑے اور حکومت نے شیعہ برادری کو زکوٰۃ کی لازمی کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دینے سمیت اسی آرڈیننس میں ترمیم کر کے ایک مخصوص اقرار نامہ متعارف کرایا، جسے عام زبان میں ’زکوٰۃ ڈکلیریشن‘ فارم کہا جاتا ہے۔

جماعت اسلامی کا ملین مارچ (1996)
یہ احتجاج اکتوبر 1996 میں بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے خلاف ہوا شروع تھا، جو نوازشریف کی پہلی حکومت کے خلاف لانگ مارچ میں پیپلزپارٹی کے ساتھ شامل تھی۔
بے نظیر بھٹو کو دوسری مرتبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی کئی چیلنجز کا سامنا تھا۔ معاشی بدحالی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بالخصوص میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد ملک میں سیاسی بے چینی عروج پر تھی۔ اسی کشیدہ ماحول میں جماعت اسلامی نے اکتوبر 1996 میں حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا۔
ان کے بنیادی مطالبات میں کرپشن کا خاتمہ، بے نظیر حکومت کی برطرفی اور فوری طور پر نئے اور شفاف انتخابات کا انعقاد شامل تھا۔
جماعت اسلامی کے اُس وقت کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد کی کال پر ہزاروں کارکنان نے اسلام آباد کا رُخ کیا۔ حکومت نے اس مارچ کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے اور راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والے راستے سیل کر دیے۔
قاضی حسین احمد کی قیادت میں مارچ کے شرکاء نے اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی تو پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ اس دوران پولیس نے قاضی حسین احمد پر بھی لاٹھی چارج کیا، جس سے وہ شدید زخمی ہوئے تاہم مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دے دیا۔

دھرنے کے تیسرے روز، 29 اکتوبر کو مغرب کے وقت بدترین شیلنگ کے بعد جماعت اسلامی کی قیادنے وقتی طور پر دھرنا ختم کر دیا تاہم چند روز بعد ہی اُس وقت کے صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف اور اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔
عدلیہ بحالی تحریک
پاکستان میں جمہوریت کا رُخ موڑنے والا ایک اور اہم لانگ مارچ 2007 میں کیا گیا تھا۔ یہ پاکستان میں سول سوسائٹی کی پہلی بڑی تحریک تھی جس کی قیادت افتخار چوہدری اور نامور وکلاء کر رہے تھے، بعد ازاں اس میں سیاسی جماعتیں اور دیگر طبقات بھی شامل ہوئے۔
یہ تحریک 9 مارچ 2007 کو اُس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے اس فیصلے کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں انہوں نے اُس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معطل اور نظر بند کر دیا تھا۔ ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز نے اس فیصلے کو مسترد کیا اور اگلے ہی روز ملک بھر میں وکلاء سڑکوں پر نکل آئے۔

ابتدا میں یہ صرف وکلاء کی تحریک تھی جس کی قیادت اعتزاز احسن، منیر اے ملک، علی احمد کرد اور طارق محمود جیسے نامور وکلاء کررہے تھے تاہم جلد ہی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس تحریک میں شامل ہوگئیں۔
عدلیہ بحالی تحریک کے سلسلے میں پہلا لانگ مارچ 10 جون 2008 کو کراچی سے شروع ہو کر سکھر، ملتان، لاہور اور گوجرانوالہ سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچا۔ ملک بھر سے وکلاء اور سیاسی کارکنان کے قافلے راستے میں اس کا حصہ بنتے گئے۔
یہ لانگ مارچ 13 جون کی رات اسلام آباد پہنچ کر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جلسے کی صورت میں اختتام پذیر ہوا۔ اگرچہ اس مارچ کے فوراً بعد ججز بحال نہیں ہوئے لیکن اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ پرویز مشرف نے اگست 2008 میں صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔

اس تحریک کا دوسرا لانگ مارچ 2009 میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران ہوا جب ملک بھر سے لاہور میں جمع ہونے والے قافلے ججز کی بحالی کا مطالبہ لیے عوامی جلوس کی شکل میں اسلام آباد کی جانب نکل پڑے۔
اس جلوس کی قیادت اعتزاز احسن اور نوازشریف کررہے تھے جسے تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی بھی حمایت حاصل تھی۔ ابھی یہ قافلہ گوجرانوالہ ہی پہنچا تھا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ٹیلی ویژن پر آکر چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت تمام معزول ججز کو عہدوں پر بحال کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی یہ لانگ مارچ ختم ہو گیا۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا ’ریاست بچاؤ مارچ‘
یہ وہ لانگ مارچ تھا جس نے پاکستان کی احتجاجی سیاست میں خصوصی کنٹینر کا رواج متعارف کرایا۔
دسمبر 2012 میں جب ملک میں پیپلزپارٹی برسرِاقتدار تھی اور عام انتخابات قریب تھے، پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کینیڈا سے طویل جلاوطنی ختم کر کے پاکستان پہنچے اور 23 دسمبر کو ’سیاست نہیں، ریاست بچاؤ‘ کے نعرے کے ساتھ مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں ایک بڑا جلسہ کیا۔

طاہر القادری نے اس جلسے میں حکومت سے انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ مئی 2023 میں ہونے والے الیکشن سے قبل موجودہ انتخابی نظام اور الیکشن کمیشن کی تشکیل نو ضروری ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو انتخابی اصلاحات کے لیے 10 جنوری 2013 تک کا الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں 14 جنوری کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کردیا۔
پی پی حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو ڈاکٹر طاہرالقادری اپنے کارکنان کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب نکل پڑے۔
اس لانگ مارچ کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری کے لیے ایک خصوصی بلٹ پروف کنٹینر تیار کروایا گیا تھا جو بلٹ پروف ہونے کے علاوہ ہیٹنگ سسٹم، بیڈ روم، صوفہ، بیت الخلا اور کچن جیسی تمام سہولیات سے آراستہ تھا۔

پاکستان عوامی تحریک کا یہ دھرنا 17 جنوری کو حکومت اور طاہر القادری کے درمیان ’اسلام آباد لانگ مارچ ڈیکلریشن‘ نامی تحریری معاہدے پر دستخط کے بعد ختم ہوا، وفاقی حکومت نے پی اے ٹی کو انتخابی اصلاحات پر جو یقین دہانیاں کروائی تھیں بعد ازاں ان میں سے بیشتر پر عمل نہیں ہوسکا تھا۔
پی ٹی آئی کا سونامی اور پی اے ٹی کا انقلاب مارچ (2014)
پاکستان تحریک انصاف کا 2014 میں لانگ مارچ کے بعد اسلام آباد کی شاہراہِ دستور (ڈی چوک) پر دیا گیا 126 روزہ دھرنا پاکستان کی سیاسی تاریخ کا طویل ترین دھرنا مانا جاتا ہے۔
پی ٹی آئی نے اس لانگ مارچ کو ’سونامی مارچ‘ نام دیا تھا تاہم ماہِ آزادی کی مناسبت سے اس کا نام تبدیل کرکے ’آزادی مارچ‘ رکھ دیا گیا۔ یہ دھرنا 14 اگست کو لاہور سے شروع ہوا اور اگلے ہی روز اسلام آباد پہنچ کر ’ڈی چوک‘ کے مقام پر دھرنے میں تبدیل ہوگیا تھا۔
تحریک انصاف نے 2014 کے آزادی مارچ میں عمران خان کے لیے زیادہ جدید اور پرتعیش کنٹینر تیار کروایا، جسے پارٹی کی جانب سے ’آزادی کنٹینٹر‘ نام دیا گیا تھا۔ عمران خان نے لگ بھگ چار ماہ اسی مخصوص اسی کنٹینر کے اندر گزارے، جو دھرنے کے دوران ان کی رہائش گاہ اور سیاسی اسٹیج کا کام دیتا رہا۔

پی ٹی آئی کا یہ پاور شو اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ اس کے بعد پاکستان میں احتجاج کا ایک نیا انداز متعارف ہوا۔ پی ٹی آئی نے دھرنے کے دوران مظآہرین کو پُرجوش رکھنے کے لیے خصوصی طور پر ’ڈی جے بٹ‘ کی خدمات حاصل کی تھیں۔ مظاہرین کی دن رات چہل پہل، فیملیز اور نوجوانوں کی بڑی تعداد میں موجودگی سے اسلام آباد کا ’ڈی چوک‘ نے میلے کا روپ دھار رکھا تھا۔
پی ٹی آئی کا دعویٰ تھا کہ 2013 کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر منظم دھاندلی ہوئی ہے لہٰذا نواز شریف وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دیں، مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کم از کم چار حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہو اور انتخابی نظام میں اصلاحات کی جائیں۔
دھرنے کے دوران نوازشریف کی حکومت کے خلاف ’گو نواز گو‘ کا نعرہ اس حد تک مقبول ہوا کہ یہ صرف دھرنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ شادیوں، کرکٹ میچز اور نجی تقریبات میں بھی گونجنے لگا۔
عین اس وقت جب اسلام آباد کے ’ڈی چوک‘ پر پارلیمنٹ کی عمارت کے بالکل سامنے پی ٹی آئی کا دھرنا جاری تھا۔ پی ٹی آئی کے پنڈال سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ڈاکٹر طاہر القادری ایک بار پھر اپنے کارکنان کے ہمراہ لاہور سے اسلام آباد پہنچ کر دھرنا دیے بیٹھے تھے۔ پاکستان عوامی تحریک نے اس مرتبہ احتجاج کو ’انقلاب مارچ‘ کا نام دیا تھا۔

پاکستان عوامی تحریک نے اس احتجاج کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 17 جون کو منہاج القرآن کے ہیڈ کوارٹر کے باہر پولیس کی فائرنگ سے متعدد کارکنان کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعے کا ردعمل قرار دیا تھا۔
طاہر القادری کا بنیادی مطالبہ تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی کے لیے اس وقت کے وزیرِاعظم نواز شریف اور وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف عہدوں سے استعفیٰ دیں تاہم حکومت اس مطالبے پر کسی صورت تیار نہیں تھی، حکومت اور پی اے ٹی کے درمیان اسی ڈیڈلاک کی وجہ سے یہ دھرنا تقریباً دو ماہ تک جاری رہا۔
تاہم 21 اکتوبر کو ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنے کے شرکاء سے طویل خطاب میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔ اس اعلان کے محض ایک ہفتے بعد وہ بیرونِ ملک روانہ ہو گئے اور اس کے بعد ملکی سیاست میں فعال طور پر نظر نہیں آئے۔
دوسری جانب ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنا ختم کرنے کے بعد بھی پی ٹی آئی کا دھرنا مزید تقریباً دو ماہ تک جاری رہا۔ تاہم پشاور میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کے المناک سانحے کے بعد 17 دسمبر کو عمران خان نے بھی باقاعدہ دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
کالعدم ٹی ایل پی کا فیض آباد دھرنا
نومبر 2017 میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ ٹی ایل پی کے کارکنان سابق سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں لاہور سے جی ٹی روڈ کے راستے راولپنڈی پہنچے تو مظاہرین نے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دے دیا۔

تقریباً 20 روز تک جاری رہنے والے اس دھرنے کی وجہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں کی گئی ایک ترمیم تھی جس کے تحت ’الیکشن بِل 2017‘ میں ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے قانونِ ختمِ نبوت کے حلف نامے کے الفاظ کو تبدیل کیا گیا تھا۔ کالعدم ٹی ایل پی کا الزام تھا کہ وفاقی حکومت نے یہ تبدیلی جان بوجھ کر کی ہے۔
اگرچہ حکومت نے اُس سنگین غلطی کو محض ’کلیرکل ایرر‘ قرار دے کر حلف نامہ بحال کر دیا تھا تاہم مظاہرین وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد کے استعفے کے بغیر دھرنا ختم کرنے پر راضی نہ تھے۔ چنانچہ حکومت نے دھرنا ختم کرانے کے لیے آپریشن کیا، جس کے بعد پورے ملک میں پُرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے۔ بعد ازاں حکومت اور کالعدم ٹی ایل پی کے درمیان تحریری معاہدے کے نتیجے میں وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور یہ دھرنا ختم ہوگیا۔
جے یو آئی (ف) کا ’آزادی مارچ‘
اکتوبر 2019 میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں نکلنے والا ’آزادی مارچ‘ پاکستان تحریک انصاف کی اس وقت کی حکومت کے خلاف پہلا بڑا اور منظم سیاسی احتجاج تھا۔

یہ مارچ 27 اکتوبر کو کراچی سے شروع ہوا تھا جو مختلف شہروں سے ہوتا ہوا 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچا اور دھرنے میں تبدیل ہوگیا۔ اس مارچ کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حمایت بھی حاصل تھی اور دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت دھرنے میں شرکت اور خطاب بھی کرتی رہی۔
اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ تھا کہ 2018 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی ہوئی ہے۔ لہٰذا عمران خان کا استعفیٰ، ملک میں دوبارہ شفاف انتخابات اور آئین کی اسلامی دفعات کا تحفظ جے یو آئی ف کے بنیادی مطالبات میں شامل تھا۔
اگرچہ 13 نومبر یعنی محض 18 روز بعد یہ دھرنا کوئی بھی مطالبہ پورا ہوئے بغیر ہی ختم ہوگیا تاہم اس مارچ نے بکھری ہوئی اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور ایک سال بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے نام سے 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد وجود میں آیا جس کا پہلا صدر مولانا فضل الرحمان کو منتخب کیا گیا۔

پی ڈی ایم نے ملک گیر بڑے جلسے کیے۔ اگرچہ بعد میں پیپلزپارٹی اور اے این پی اس اتحاد سے الگ ہو گئیں، لیکن اس اتحاد نے تحریکِ انصاف کی حکومت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ بعد ازاں پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو عہدے سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئیں۔
پیپلز پارٹی کا عوامی مارچ
پاکستان پیپلز پارٹی کا فروری 2022 کا ’عوامی لانگ مارچ‘ ایسے وقت میں شروع ہوا جب ملک میں مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر تھی جب کہ پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے بھی حکومت کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا تھا۔
پیپلز پارٹی نے بھی ان ہی مسائل کو بنیاد بناتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں 27 فروری کو کراچی سے لانگ مارچ شروع کیا جو حیدرآباد، سکھر، رحیم یار خان، ملتان اور لاہور سمیت سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا 10 روز بعد وفاقی دارالحکومت پہنچ گیا۔

اس لانگ مارچ کی خاص بات یہ تھی کہ جس روز یہ اسلام آباد پہنچا اسی رات یعنی آٹھ مارچ کو قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کروا دی گئی تھی۔
پیپلزپارٹی کا ’عوامی مارچ‘ ڈی چوک پہنچنے کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہے اور ہم عمران خان کو اسی جمہوری ہتھیار (عدم اعتماد) کے ذریعے گھر بھیج رہے ہیں۔‘ اسی خطاب میں انہوں نے احتجاج ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
اسی تقریر کے دوران فرطِ جذبات میں بلاول بھٹو کی زبان پھسلی اور ان کی زبان سے نکلنے والا جملہ وائرل مِیم بن گیا۔ بلاول بھٹو کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے جوشِ خطابت میں کچھ اور کہنا چاہتے تھے مگر ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا کہ ’اسلام آباد میں کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔‘
بلاول بھٹو کے یہ جملہ بولنے کی دیر تھی کہ چند ہی منٹوں میں یہ فیس بک، ایکس اور ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
لوگوں نے اس پر ہزاروں مزاحیہ ویڈیوز اور میمز بنائیں۔ عمران خان اور تحریکِ انصاف کے دیگر رہنما بھی جلسوں میں کئی ماہ تک یہ جملہ دہراتے رہے۔
بعد ازاں بلاول بھٹو نے ایک انٹرویو میں مسلسل سفر اور نیند کی کمی کو اس غلطی کی وجہ قرار دیا تھا۔
پیپلزپارٹی کے عوامی مارچ کے اختتام کے ٹھیک ایک ماہ بعد، 10 اپریل 2022 کو عمران خان کی حکومت ختم ہوئی اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیرِاعظم کو تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا۔
حقیقی آزادی مارچ
اپریل 2022 میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد عمران خان نے فوری عام انتخابات کے مطالبے پر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ یہ مارچ 25 مئی 2022 کو خیبر پختونخوا اور پنجاب سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔ قافلہ صوابی پہنچا تو عمران خان پشاور سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں پہنچے اور ’حقیقی آزادی مارچ‘ کی قیادت سنبھال لی۔

پی ٹی آئی کا مرکزی قافلہ راستے میں ہی تھا کہ مسلم لیگ ن کی نو منتخب وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے مارچ کو روکنے کے لیے اسلام آباد اور لاہور کی تمام اہم سڑکوں پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کیے اور دفعہ 144 بھی نافذ کر دی۔
اس دوران پی ٹی آئی کے کارکنان اور پولیس کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوتی رہیں۔ 26 مئی کی صبح یہ مارچ اسلام آباد پہنچا تو عمران خان نے ڈی چوک پر دھرنا دینے کے بجائے غیر متوقع طور پر حکومت کو نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے لیے چھ دن کا الٹی میٹم دیا جس کے بعد یہ مارچ ختم ہوگیا اور وہ پشاور روانہ ہو گئے۔
چھ دن کا الٹی میٹم گزرنے کے کئی ماہ بعد بھی حکومت نے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تو عمران خان نے 28 اکتوبر 2022 کو دوبارہ لاہور کے لبرٹی چوک سے دوسرے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔
گزشتہ لانگ مارچ کے برعکس جہاں کارکنان نے تیزی سے اسلام آباد پہنچنے کی کوشش کی تھی، اس بار تحریکِ انصاف نے الگ حکمتِ عملی اپنائی۔ لاہور سے نکلنے کے بعد لانگ مارچ انتہائی دھیمی رفتار سے آگے بڑھتا رہا، جہاں ہر شام عمران خان اپنے مخصوص کنٹینر سے کارکنان سے خطاب بھی کرتے رہے۔

مارچ کے ساتویں روز یعنی تین نومبر کو جب یہ قافلہ وزیر آباد پہنچا تو عمران خان قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے۔ اس حملے کے بعد پی ٹی آئی نے اس مارچ کو چند روز کے لیے معطل کیا۔ عمران خان کو لاہور کے شوکت خانم اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں شاہ محمود قریشی کی قیادت میں یہ مارچ دوبارہ شروع ہوا تاہم عمران خان اسپتال اور پھر اپنی رہائش گاہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے مارچ کے شرکاء سے مخاطب ہوتے رہے۔
پی ٹی آئی کا کارواں 26 نومبر کو رحمٰن آباد راولپنڈی پہنچا جہاں ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ اس جلسے میں عمران خان نے اسلام آباد کا رُخ کرنے کے بجائے بڑا سیاسی سرپرائز دیتے ہوئے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر دیا اور اس اعلان کے ساتھ ہی لانگ مارچ بھی ختم ہو گیا۔
عمران خان کی ہدایت پر اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے گورنر پنجاب کو اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھیجی۔ گورنر کے دستخط نہ کرنے کے باوجود آئینی ڈیڈ لائن (48 گھنٹے) گزرنے کے بعد 14 جنوری 2023 کو پنجاب اسمبلی خود بخود تحلیل ہو گئی۔
پنجاب اسمبلی ٹوٹنے کے ٹھیک چار روز بعد، خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ محمود خان نے بھی اسمبلی توڑنے کی سمری بھیجی، جس پر گورنر حاجی غلام علی نے دستخط کیے اور 18 جنوری 2023 کو کے پی اسمبلی بھی باقاعدہ تحلیل کر دی گئی۔
اگرچہ اس فیصلے سے ملک میں شدید آئینی اور سیاسی بحران پیدا ہوا لیکن وفاقی حکومت نے فوری انتخابات نہیں کرائے اور ان دونوں صوبوں میں طویل عرصے تک نگراں حکومتیں قائم رہیں اور فروری 2024 میں ہی پورے ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔