اسلام آباد میں کوئی سڑک بند نہیں، تمام راستے کھلے ہیں: طلال چوہدری کا دعویٰ
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں کوئی سڑک بند نہیں کی گئی ہے اور شہر میں داخل ہونے والے تمام 125 راستے مکمل طور پر کھلے ہیں۔
طلال چوہدری نے جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے ’پولیس ایکٹ 2026‘ پر گہری تشویش اور تحفظات کا اظہار کیا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس محدود وسائل کے باوجود دہشت گردی کے خلاف بہادری سے نبرد آزما ہے اور پنجاب پولیس سے بھی زیادہ بہادر ثابت ہوئی ہے، مگر خیبرپختونخوا حکومت پولیس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر تباہ کر رہی ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے تمام اختیارات اپنی جیب میں رکھ لیے ہیں اور کے پی پولیس کو نہتا کر دیا ہے، جبکہ بانی تحریک انصاف خود اداروں کو غیر سیاسی بنانے کے لیکچر دیتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد جدید ترین اسلحے سے لیس ہیں اور خالی سینوں کے ساتھ ان کا مقابلہ نہیں ہو سکتا، خیبرپختونخوا حکومت آئین سے متصادم پولیس رولز نہیں بنا سکتی اور نہ ہی صوبائی حکومت پولیس افسران کے بنیادی اختیارات واپس لے سکتی ہے۔
اگرچہ طلال چوہدری نے اسلام آباد کے تمام راستے کھلے ہونے کا دعویٰ کیا ہے تاہم زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیشِ نظر انتظامیہ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ملانے والے سرحدی مقامات پر سیکیورٹی کے غیر معمولی اور انتہائی سخت انتظامات کر رکھے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، اٹک کے مختلف داخلی اور خارجی راستوں، جیسے کہ خیرآباد پل، ہارون پل، چھچھ انٹرچینج اور ہزارہ موٹروے کے اطراف میں سیکڑوں کنٹینرز کے ساتھ ساتھ پانچ لاکھ سے زائد ریت سے بھری بوریاں پہنچائی گئی ہیں تاکہ کسی بھی احتجاجی تحرک اور گاڑیوں کی آمدورفت کو وقت ضرورت کنٹرول کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پولیس ایکٹ 2026 منظور کیا گیا ہے، جس کے تحت آئی جی خیبرپختونخوا کی تعیناتی کا اعلامیہ صوبائی حکومت جاری کرے گی اور آئی جی کی غیر موجودگی میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈ کوارٹر چارج سنبھالیں گے۔
اس نئے قانون کے تحت ڈی ایس پیز اور اے ایس پیز کے تبادلے ہوم سیکریٹری کریں گے جبکہ ایس پی، ایس ایس پی، اور ایڈیشنل آئی جی کے تبادلے اور پوسٹنگز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے سپرد کی جائیں گی، اور پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی بھی آئی جی سے منتقل کر کے وزیراعلیٰ کو دے دی جائے گی۔