حکومت رابطہ کرے تو مثبت جواب دیا جائے: محمود اچکزئی کا اپوزیشن قیادت کو پیغام

قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن رہنماؤں کو حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے رابطے کی صورت میں مثبت جواب دینے کی ہدایت کردی ہے۔ محمود اچکزئی کا یہ بیان وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کی دعوت دیتے کے بعد سامنے آیا ہے۔

محمود اچکزئی نے اپوزیشن قیادت کو حکومت سے دوبارہ مذاکرات سے متعلق ہدایات دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عمران خان سے ملاقات اپوزیشن کی پہلی شرط ہونی چاہیے، جب کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی رہائی سے مثبت پیش رفت کا آغاز کرسکتی ہے۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ اگر حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر رضامند نہیں ہوتی تو وزیراعظم سے ملاقات بے معنی ہوگی۔

ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے یہ پیغام اخونزادہ حسین یوسفزئی کے ذریعے اپوزیشن رہنماؤں تک پہنچایا۔

وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں ناکامی کے بعد وزیراعظم شہبازشریف نے منگل کے روز ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بامعنی مذاکرات کی سنجیدہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست شروع کردی ہے۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی احتجاج ختم کرے تو حکومت دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاجی سیاست، دھرنوں اور لانگ مارچ کا سب سے زیادہ اثرات ملکی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو معاشی نقصان پہنچانے والے تمام کے خلاف قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔

پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کا اختیار محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصرکے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرحکومت مذاکرات کے حوالے سے مخلص ہے تو وہ مذکورہ رہنماؤں سے رابطہ کرلے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان کی ذاتی معالج تک رسائی قومی سلامتی کا معاملہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے معاملے پر وفاق کو صوبے کی بات سننی پڑے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی مذاکرات کے حوالے سے ٹویٹس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، سیاست میں ایسا چلتا ہے۔

Related posts