دہلی پولیس نے نجف گڑھ میں ایک انشورنس فراڈ کا پردہ فاش کیا جہاں ایک باپ نے ایک وکیل کی مدد سے انشورنس کلیمز میں ایک کروڑ روپے جمع کرنے کے لیے بیٹے کی موت کو جعلی بنانے کر مل کر کام کیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فراڈ کرنے والے نے اپنے بیٹے گگن کیلیے ایک کروڑ روپے کی انشورنس پالیسی خریدی۔ 5 مارچ کو باپ نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ گگن نجف گڑھ میں ایک سڑک حادثے میں ہلاک ہوگیا۔ اس نے شروعات میں ایک چھوٹے اسپتال میں معمولی علاج کروایا، پھر اسے بڑے ہسپتال میں ریفر کرنے کا بہانہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق باپ نے پھر چھوٹا دعویٰ کیا کہ اس کا بیٹا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا یہاں تک اس نے بیٹے کی آخری رسومات کا جھوٹا ڈرامہ بھی رچایا۔
100سال قبل کیا گیا مزاق: کالج سے دادا کے چرائے گئے گھڑیال کے کانٹے کو پوتے نے واپس کر دیا
لیکن کہانی میں موڑ اس وقت آیا جب 11 مارچ کو ایک شخص پولیس اسٹیشن آیا اور دعویٰ کیا کہ وہ 5 مارچ کو ایک حادثے میں ملوث تھا جہاں کسی کی موت ہو گئی تھی۔ تاہم، پولیس کو حادثے کا کوئی ریکارڈ، اسپتال کی کوئی رپورٹ، اور خاندان کے اس دعوے کی تائید کرنے کے لیے کوئی ثبوت تک نہیں ملا کہ گگن کی موت ہوئی تھی۔ جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں۔
پولیس نے مزید تفتیش کی تاہم پھر بھی حادثے یا موت کا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کے بعد پولیس کا شک مزید بڑھ گیا اور انشورنس کے ریکارڈ پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ ایک شخص نے حال ہی میں اپنے بیٹے گگن کیلئے ایک کروڑ روپے کی پالیسی خریدی تھی۔
سائبر فراڈ کا شکار بنے بزرگ جوڑے نے زندگی بھر کی جمع پونجی گنوانے پر خودکشی کرلی
بعد ازاں باپ اور بیٹے نے بالآخر جرم کا اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے وکیل کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے انشورنس کمپنی کو ادائیگی سے دھوکہ دینے کے لیے جعلی واقعہ بنایا تھا۔
پولیس نے باپ بیٹے دونوں کو حراست میں لے لیا ہے۔