پشاور میں معمولاتِ زندگی بحال: کنٹینرز ہٹا دیے گئے، تعلیمی ادارے کھل گئے
خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں انتظامیہ کی جانب سے تمام بند شاہراہیں اور داخلی راستے کھول دیے گئے ہیں، جبکہ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پر صوبے میں بے امنی سے متعلق زیر گردش متعدد دعوؤں کو من گھڑت، گمراہ کن اور غیر ملکی سرپرستی میں چلائی جانے والی منظم پروپیگنڈا مہم قرار دے دیا ہے۔
حکام کے مطابق صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے پیشِ نظر ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے لگائے گئے تمام کنٹینرز ہٹا دیے گئے ہیں۔
پشاور کے اسمبلی چوک ریڈ زون اور شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں سے رکاوٹیں ختم کر دی گئی ہیں، جبکہ دو دن سے معطل بی آر ٹی سروس اور تمام تعلیمی ادارے بھی دوبارہ فعال ہو چکے ہیں۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں بھی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے پیشِ نظر رکھی گئی رکاوٹیں اور کنٹینرز ہٹا دیے گئے تھے۔
دوسری جانب وزارت اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک شعبے کے مطابق سوشل میڈیا پر خیبرپختونخوا میں بے امنی کا مصنوعی تاثر پیدا کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ تصاویر، پرانی فوٹیجز اور غیر متعلقہ ویڈیوز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
ترجمان وزارتِ اطلاعات کے مطابق فیکٹریوں میں آگ لگنے، لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہروں اور حتیٰ کہ شام سمیت دیگر ممالک کے مقامات کی ویڈیوز کو غلط کیپشنز کے ساتھ خیبرپختونخوا کے حالات سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
وزارت اطلاعات نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض افغان اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس چند مقامی سیاسی اکاؤنٹس کے ساتھ مل کر اس بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ ملک میں افراتفری اور عدم استحکام کا تاثر پیدا کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق اس منظم پروپیگنڈا مہم کے سدباب اور عوام کو درست حقائق سے آگاہ رکھنے کے لیے مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، جبکہ شہر میں سیکیورٹی اور انتظامی صورت حال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔