لاہور میں چند روز پہلے 17سالہ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کرنےوالے پانچ ملزمان کو گرفتارکرلیا گیا۔ ملزمان نےلڑکی کو قتل کرکےلاش کو قبرستان میں پھینک دی تھی۔
باغبانپورہ کےعلاقے میں ایک قبرستان سےچند روز پہلے ایک 17 سالہ نامعلوم لڑکی کی شہ رگی کٹی لاش ملی۔ پولیس نےلاش کو قبضہ میں لیکر مردہ خانےمنتقل کردیا گیا۔
پوسٹمارٹم کےبعد پتہ چلا کہ اس کےساتھ اجتماعی زیادتی بھی ہوئی ہے، پولیس نےتفتیش شروع کی اورسی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سےملزمان کوگرفتارکیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ملزمان نے بتایا کہ پہلےانہوں نےلڑکی سے فیضان کےگھرمیں اجتماعی زیادتی کی اورپھرملزم مبین نےبتایا کہ اس کی ماں کالےعلم کےجادو سے ہلاک ہوئی تھی اوراسے شک ہے کہ یہ لڑکی بھی کالا علم جانتی ہے جس پر اس نے اسے قتل کیا۔
محمود بوٹی کی رہائشی مقتولہ کی شناخت نگینہ کےنام سے ہوئی۔ مقتولہ کی دادی ثریا بی بی کا کہنا ہےکہ ملزمان نگینہ کو یہ کہہ کر گھر سےلائے کہ ہماری والدہ زکوۃ دینا چاہتی ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ انہیں انصاف چاہیے۔