اسکول کی چھت خستہ حال تھی، جو عارضی سہارے پر کھڑی تھی: پشاور حادثے کی ابتدائی رپورٹ

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کردی گئی ہے۔

ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ارسال کی گئی رپورٹ میں عمارت کی تیسری منزل کی چھت گرنے اور اسکول کی عمارت غیرمحفوظ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تیسری منزل سے چھت نیچے گری جو 20 سے 25 فٹ اونچائی پر واقع تھی، اسکول کے تمام کمروں کی تیار چھتیں لگی ہوئی تھیں تاہم سب سے بالائی منزل کی چھت بارش کے باعث خستہ ہو چکی تھی۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسکول کے مالک کو بچوں نے چھت کی خستہ حالی سے متعلق آگاہ کیا تھا جب کہ چھت کو عارضی سہارا دے کر آج اسکول میں بچوں کو بلایا گیا تھا۔

ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ کمروں کے ساتھ عمارت کے دیگر حصوں کو غیر محفوظ قرار دے دیا جب کہ اسکول کی رجسٹریشن کے حوالے سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

وزیراعظم نے گورنر خیبرپختونخوا سے ٹیلی فونک رابطہ

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ وزیراعظم نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے حادثے کے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی جب کہ انہوں نے واقعے کی مکمل رپورٹ بھی طلب کرلی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے وزیراعظم کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسکول کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور حادثے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

وزیراعظم نے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

یاد رہے کہ 15 اکتوبر کو پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے 33 بچے اور 2 خواتین ٹیچرز جاں بحق ہوگئیں، جب کہ 50 سے زائد بچے زخمی ہوئے۔ حادثے کے وقت اسکول میں 110 بچے موجود تھے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال انتظامیہ کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں جب کہ زخمی بچوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ ریسکیو اہلکاروں نے ملبے تلے دبے بچوں اور اسکول عملے کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں کیں۔

پولیس کے مطابق اسکول کی عمارت کا ڈھانچہ کمزور تھا اور چھت پر اضافی تعمیراتی وزن کے باعث حادثہ پیش آیا۔ اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا جب کہ خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم نے واقعے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی۔

Related posts