خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا دل نہیں تھا، کوشش کی ایسا نہ کرنا پڑے: وزیر داخلہ

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن سے مذاکرات میں سب سے پہلے دہشت گردی پر بات ہوئی، یہ نہ کہیں کہ دہشت گردی کے مسئلے کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خدا گواہ ہے، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا دل نہیں تھا، آخری لمحے تک کوشش کی کہ ایسا نہ کرنا پڑے اور کوشش کی صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف تعاون کرے۔

جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے درجنوں واقعات ہوئے اور وفاقی حکومت نے مسلسل کوشش کی کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ لے کر چلا جائے تاہم اس مقصد کے لیے اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلوانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

محسن نقوی نے بتایا کہ فروری میں پشاور میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس کے انعقاد کے لیے بھی مشکلات پیش آئیں۔ اجلاس کے بعد پریس ریلیز جاری ہونا تھی، جس میں لکھا گیا تھا کہ دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق پریس ریلیز جاری کرنے کی درخواست کے باوجود دہشت گردی کی مذمت نہیں کی گئی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان کے لیے کرنا ہے اور اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا تاثر درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف بات کی تاہم انہیں بتایا کہ ان کی بات اور صوبائی حکومت کے مؤقف میں بڑا فرق ہے، کہیں نہ کہیں کچھ غلط ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت سے بات چیت کرنے اور اسے اعتماد میں لینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ وہ کئی مرتبہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ذاتی طور پر بھی ملے اور جس طریقے سے مذاکرات ممکن تھے کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر مرتبہ مذاکرات میں پہل کی گئی، حتیٰ کہ 26 نومبر سمیت مختلف معاملات سامنے آنے پر بھی حکومت نے بات چیت کا راستہ اختیار کیا۔

محسن نقوی نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن سے مذاکرات میں سب سے پہلے دہشت گردی کے معاملے پر بات ہوئی، یہ نہ کہیں کہ دہشت گردی کے مسئلے کا غلط استعمال کیا گیا، ان کے مطابق سہیل آفریدی کے ساتھ بیٹھ کر پانچ اضلاع کے لیے منصوبہ تیار کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ان اضلاع میں پولیس کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اداروں اور فوجیوں کے خلاف بات کرتے تھے جب کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں بھی ہو رہی تھیں۔ ان کے بقول سہیل آفریدی کہتے تھے کہ وہ آپریشن کو سیاسی طور پر برداشت نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے صوبائی قیادت سے گزارش کی کہ وہ مل بیٹھ کر جائزہ لے کہ کہاں غلطی ہوئی ہے۔ محسن نقوی نے سوال اٹھایا کہ سہیل آفریدی کو کون ہدایات دیتا تھا، یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ ان کے مطابق شفیع جان دہشت گردوں کی مذمت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے جب کہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار نہ کرنے پر تحفظات رہے۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ خدا گواہ ہے، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا حکومت کا دل نہیں تھا۔ آخری منٹ تک کوشش کی گئی کہ ایمرجنسی نافذ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے مسئلے کو استعمال نہیں کیا اور یہ کہنا درست نہیں کہ اس معاملے کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبیعت ٹھیک نہیں تو وہ اسی رات ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے چیک اپ کی غرض سے جانے والے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں ہو رہی تھیں اور آئندہ بھی ہوتی رہیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے بڑے رہنماؤں کو اپنے ہی رہنماؤں پر اعتماد کیوں نہیں۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت کو ساتھ لے کر چلنے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانے کی مسلسل کوشش کی گئی لیکن معاملات مطلوبہ انداز میں آگے نہ بڑھ سکے۔

محسن نقوی نے ایک بار پھر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی مسئلہ ہے، جس کا مقابلہ مل کر کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات، رابطوں اور تعاون کے تمام ممکنہ راستے اختیار کیے تاہم آخری وقت تک کوششوں کے باوجود خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی نوبت آئی۔

Related posts