خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج میں توسیع کا امکان ظاہر کردیا
وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج میں توسیع کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر راج میں 3 سے 6 ماہ تک توسیع ہوسکتی ہے۔
جمعرات کو پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں فی الحال 6 ماہ کے لیے گورنر راج لگایا گیا ہے، ہوسکتا ہے اس میں دو، تین یا چھ ماہ کی توسیع ہوجائے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں احتجاج کے آثار نظر نہیں آئے اور صوبے میں لوٹ مار کرنے والے غائب ہوگئے ہیں۔
مذاکرات کے حوالے سے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے اپنی پوری کوشش کی اور بات چیت کو مناسب وقت دیا۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کا پس منظر
یاد رہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت سمری کی منظوری دیتے ہوئے دستخط کیے تھے۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورت حال، دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور صوبائی حکومت کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر اختلافات کو اس فیصلے کی وجہ قرار دیا تھا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 11 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ گورنر راج کے تحت صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کردیے گئے ہیں، جو 11 رکنی مشاورتی کونسل کی مدد سے صوبے کے امور چلائیں گے۔ اس انتظام کے لیے ابتدائی طور پر چھ ماہ کی مدت بتائی گئی تھی۔
اس کے بعد 14 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی جب کہ 15 اکتوبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے گورنر راج کی توثیق کی قرارداد منظور کرلی۔
خواجہ آصف کے تازہ بیان میں گورنر راج کی مدت میں مزید توسیع کا امکان ظاہر کیا گیا ہے تاہم ان کے مطابق اس وقت صوبے میں چھ ماہ کے لیے گورنر راج نافذ ہے۔