امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی سابق افسر سارہ ایڈمز نے امارات اسلامیہ افغانستان (IAG) کے حوالے سے اہم اور تشویشناک انکشافات کیے ہیں، جنہوں نے نہ صرف مغرب کو جھنجھوڑ دیا ہے بلکہ پاکستان کے دیرینہ تحفظات کو بھی درست ثابت کر دیا ہے۔
سارہ ایڈمز نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان حکومت نے داعش خراسان (ISKP) کے اہم رہنماؤں گل مراد خالیموف، عمر فاروق اور قیس لغمانی کی جھوٹی ہلاکتوں کی خبریں پھیلا کر مغرب کو گمراہ کیا، تاکہ اپنی انسدادِ دہشتگردی کی کارکردگی کو بہتر بنا کر پیش کیا جا سکے۔

اس سے قبل سارہ ایڈمز بھارت کی جانب سے طالبان (خصوصاً افغان وزارت دفاع) کو 1 کروڑ امریکی ڈالر کی ادائیگیوں کا انکشاف بھی کر چکی ہیں، جن کا مقصد پاکستان میں کشمیری، خالصتانی اور دیگر مزاحمتی گروہوں کو نشانہ بنانا تھا۔
ان انکشافات نے پاکستان کے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
افغان عبوری حکومت کے خلاف یہ محض الزامات نہیں رہے بلکہ اب مغربی انٹیلیجنس کے اہلکاروں کی گواہی کے ساتھ حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے طالبان حکومت نے داعش خراسان کے رہنماؤں کی جھوٹی ہلاکتوں کا ڈرامہ رچایا، اسی طرح بھارت کا طالبان سے خفیہ گٹھ جوڑ ایک عالمی سیکیورٹی تھریٹ بن چکا ہے۔ ہندوطالبان گٹھ جوڑ اب صرف علاقائی امن نہیں بلکہ بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن چکا ہے۔
سارہ ایڈمز کے ان انکشافات پر افغانستان حکومت کی خاموشی اور کسی قسم کی تردید نہ آنا بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اس دوہرے کھیل میں شامل ہے — یعنی بظاہر داعش اور القاعدہ کے خلاف کامیابیاں ظاہر کرنا، لیکن درحقیقت دہشتگرد نیٹ ورکس کو پنپنے دینا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ان انکشافات کے بعد خطے میں سیکیورٹی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینا ناگزیر ہو گیا ہے، خاص طور پر پاکستان کو عالمی فورمز پر اس معاملے کو بھرپور طریقے سے اٹھانا چاہیے۔