خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ مجبوری تھا: وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا حکومت کے عدم تعاون کے باعث صوبے میں ایمرجنسی لگانا مجبوری تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ وفد نے پی ٹی آئی کے ساتھ 48 گھنٹے طویل مذاکرات کر کے معاملات سلجھانے کی پوری کوشش کی، لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت نے احتجاج اور دباؤ کی سیاست کا راستہ اپنایا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز گوجرانوالہ میں مسلم لیگ (ن) کے رکنِ قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کے انتقال پر ان کے صاحبزادے راشد بشیر ورک کی رہائش گاہ جا کر تعزیت کی۔
مرحوم کی سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کی سیاسی و سیکیورٹی صورت حال پر بھی اظہارِ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاق نے معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مسلسل بات چیت کے ذریعے کوششیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں ایک ڈرافٹ بھی تیار ہو چکا تھا جس کے تحت پی ٹی آئی کو اپنا لانگ مارچ مؤخر یا واپس لینا تھا لیکن آخری وقت میں سہیل آفریدی مسودے سے منحرف ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ایمرجنسی کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں بچا تھا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے سہیل آفریدی اور اس سے قبل علی امین گنڈاپور کے ساتھ متعدد ملاقاتیں میں انہیں صوبے کی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف وفاق کی مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جب ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے، سیکیورٹی فورسز کے جوان اور افسران وطن کی حفاظت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے اور جواب میں بار بار دھمکیوں اور لانگ مارچ کی باتیں سامنے آتی رہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے ماضی کے احتجاجی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تاریخ انتہائی خوف ناک رہی ہے۔
شہباز شریف نے گزشتہ سال نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دھرنے کے باعث پورا ملک مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے اس بار بھی خونریزی کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔