آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تو کشمیر اور پانی جیسے روایتی تنازعات موجود ہیں لیکن بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان کشیدگی تو ایسے مسائل کی وجہ سے نہیں ہے۔
سانحہ مشرقی پاکستان اور بنگلہ دیش کے بننے کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تو روائتی دوستی کے خواب دیکھے گئے تھے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ دونوں میں دوستی کا آج وجود نظر نہیں آرہا۔ بھارت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔
بنگلہ دیش بھارت کے مقابلے میں ایک کمزور ملک نظر آرہا ہے۔ میں دفاعی طور پر بات کر رہا ہوں، اس کمزور دفاع کی وجہ سے ہی بنگلہ دیش بھارتی تسلط میں رہا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان سے آزادی حاصل کر کے بنگالی بھارت کی غلامی میں چلے گئے۔
وہاں بھارت کا معاشی تسلط نظر آتا ہے۔ آج عام بنگالی خود کو بھارت کے تسلط میں محسوس کر رہا ہے۔ اس لیے بنگلہ دیش میں بھارت کے لیے نفرت بڑھ رہی ہے، عام بنگالی بھارت کے خلاف نظر آرہا ہے۔
شائد عام پاکستانی بھارت کے اس قدر خلاف نہیں ہے لیکن عام بنگالی میں بھارت کے لیے زیادہ نفرت نظر آرہی ہے۔ لیکن آج بنگلہ دیش کو بھارت کے سامنے اپنی بقا خطرے میں نظر آرہی ہے۔
چند سال پہلے تک دوست ہمیں بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کی مثالیں دیتے تھے۔ لیکن آج میرا ان دوستوں سے سوال ہے کہ کہاں ہے وہ معاشی ترقی جس کی آپ ہمیں کہانیاں سناتے تھے، بھارت سب کھا گیا۔
بھارت کا سرمایہ کار سب کھا گیا اور بنگلہ دیش کنگال نظر آرہا ہے۔ وہاں کی معیشت بھی کمزور نظر آرہی ہے اور وہاں کا دفاع بھی کمزور نظر آرہا ہے۔ بنگلہ دیش دونوں محاذوں پر کمزور ہے۔
بھارت نے جان بوجھ کر بنگلہ دیش کے دفاع کو کمزور رکھا ہے۔ تاکہ بنگلہ دیش اس کے تسلط میں رہے۔ آج کمزور دفاع بنگلہ دیش کے لیے ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
حال ہی میں بنگلہ دیش کے فضائیہ کے سربراہ پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان سے جے ایف 17تھنڈر طیارے خریدنا چاہتے ہیں۔ آج کل تو سب گوگل میں ہے۔
آپ بنگلہ دیش کی فضائیہ کے جنگی جہازوں کی تفصیلات گوگل کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کے پاس ایک بھی جدید جہاز نہیں ہے۔ وہ زمانہ قدیم کے جہاز استعمال کر رہے ہیں جن کے آج کی فضائی جنگ میں کوئی کردار نہیں۔
وہ بھارت کا ایک منٹ کے لیے بھی فضائی جنگ میں مقابلہ نہیں کر سکتے۔ کئی دہائیوں سے بنگلہ دیش کی فضائیہ نے نہ تو کوئی جہاز خریدا ہے اور نہ ہی کوئی جہاز بنانے کی کوشش کی ہے۔ آج بنگلہ دیش کی فضائیہ ایک مفلوج فضائیہ ہے۔
پاکستان کو بنگلہ دیش کی دفاعی طور پر مدد کرنی چاہیے لیکن آپ دیکھیں کہ دفاعی طور پر ایک کمزور ملک کی بقا آج کس قدر خطرے میں رہتی ہے۔ اس کی معاشی آزادی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ بنگلہ دیش اس کی بہترین مثال ہے۔
حالانکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے بھی کوئی اچھے تعلقات نہیں رہے ہیں۔ لیکن میں پھر بھی سمجھتا ہوں کہ مشکل کے اس وقت میں پاکستان کو بنگلہ دیش کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے۔
ہمیں آج بھی بنگلہ دیش کو اپنا حصہ ہی سمجھنا چاہیے۔ اس کے دفاع کو اپنا دفاع ہی سمجھنا چاہیے۔ یہ ماضی کی غلطیوں کو دور کرنے کا بہترین وقت ہے۔
بنگلہ دیش کو صرف فضائیہ میں ہی پاکستان کی مدد نہیں چاہیے۔ بری فوج بھی بھارت کے مقابلے میں کمزور ہے۔ بنگلہ دیش کوئی میزائیل نہیں بناتا، کوئی ڈرون نہیں بناتا، جدید اسلحہ نہیں ہے، فوج بھی کمزور ہے۔
آج میزائل اور ڈرونز کے بغیر فوجی لڑائی کا کوئی تصور نہیں۔ بنگلہ دیش کے پاس ایسا کچھ نہیں ہے۔پرانے ٹینک ہیں، آج کے جدید ٹینک بھی نہیں ہیں۔ اس لیے بنگلہ دیش کی فوج بھی بھارت کے مقابلے میں بہت کمزور ہے۔
بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان بارڈر کے حوالے سے تنازعات ہیں۔ لیکن کمزور فوج کی وجہ سے بنگلہ دیش بھارت کی ہر بات ماننے پر مجبور ہے۔ یہ ساری صورتحال عام پاکستانی کے لیے ایک بہترین کیس اسٹڈی ہے۔
وہ دوست جو پاکستان کی فوجی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہیں، وہ دوست جو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے دفاع پر غیر ضروری اخراجات کیے ہیں، وہ جو پاکستان کے ایٹمی طاقت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ان سے آج بنگلہ دیش کی صورتحال پر سوال تو بنتا ہے۔
کیا بنگلہ دیش ایک پر امن بقا کے لیے بھارت کی مرضی کی حکومت کا محتاج ہے۔ اگر بنگلہ دیش کے عوام بھارت کی مرضی کی حکومت کو قبول نہ کریں تو بنگلہ دیش کی بقا مشکل ہو جائے گی۔ بھارت کا معاشی تسلط قبول نہ کریں تو بقا خطرے میںہو گی۔
پاکستان کی بقا محفوظ ہے، ہم نے بھارت کو مئی میں شاندار شکست دی ہے، جس کی وجہ سے دنیا پاکستان کو ایک مضبوط ملک سمجھتی ہے۔ دنیا ہماری دفاعی طاقت سے مرعوب ہے۔بنگلہ دیش پاکستان کی دفاعی طاقت کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
وہ بنگلہ دیش کا بھی پاکستان جیسا دفاع چاہتے ہیں لیکن ان کو بھی یہ سمجھ ہے کہ یہ سب ایک دن میں ممکن نہیں ہوا ہے۔ پاکستان کے عوام نے بھوک برداشت کی ہے اور دفاع مضبوط کیا ہے۔ ہم نے دفاع کو خوشحالی پر بھی مقدم رکھا ہے۔
آج ثابت ہو رہا ہے کہ اگر دفاع مضبوط نہیں تو مضبوط معیشت بھی کمزور بن جاتی ہے، خوشحالی بھی چلی جاتی ہے۔ یہ دنیا طاقتور کی ہے۔ یہاں اب جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول چلتا ہے اور اگر آپ کے پاس اپنی لاٹھی نہیں تو آپ غلام ہیں۔
وینزویلا کی مثال سامنے ہے، یوکرین کی مثال سامنے ہے، عربوں کی مثال سامنے ہے، گرین لینڈ کی مثال سامنے ہے۔ آج ڈنمارک کے خود مختار علاقے گرین لینڈ کی بقا بھی مشکل میں نظر آرہی ہے۔
دنیا میں کتنے ملک کمزور دفاع کی وجہ سے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ حالانکہ کچھ معاشی طور پر مستحکم بھی ہیں۔ کیا پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ سعودی عرب جیسا کوئی دفاعی معاہدہ کرنا چاہیے۔
میں سمجھتا ہوں نہیں۔ بنگلہ دیش جہاں دفاعی اور معاشی طور پر کمزور ہے وہاں شدید سیاسی عدم استحکام کا بھی شکار ہے۔ وہاں ابھی کوئی مستقل فیصلے ممکن نہیں۔ دفاعی معاہدے مستقل نوعیت کے ہوتے ہیں۔
کل کوئی حکومت آئے اور ختم کر دے۔ اس لیے جس قدر مدد ہو سکتی ہے کرنی چاہیے۔ حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ دیکھنا چاہیے بنگلہ دیش کے لوگ اور وہاں کی حکومت کیسے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ اس لیے کوئی جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ پہلے بنگلہ دیش کے عوام کا ذہن بھی سامنے آجائے۔ پھر دیکھتے ہیں۔