گویا ہاجرہ مسرور کو ترقی پسند نظریات سے واقفیت ہو چکی تھی۔ ہاجرہ مسرور کا جنم چونکہ لکھنو میں ہوا تھا اور لکھنو اس وقت پورے برصغیر میں علم و ادب کا مرکز تھا جیسے کہ ہم نے سطور بالا میں آزادی کی تحریکوں کا ذکرکیا، البتہ اسی عہد میں ترقی پسند تحریک بھی خوب عروج پا رہی تھی۔ اسی عہد میں خواتین نے ان موضوعات پر بھی قلم اٹھایا جن موضوعات پر مرد حضرات بھی قلم اٹھانے سے گریزاں تھے۔ یہ وہ موضوعات تھے جن پر ادبی محفلوں میں ذکر کرنا بھی معیوب تصورکیا جاتا تھا۔ البتہ اس دور میں بھی جن افسانہ نگار خواتین نے ان نازک موضوعات پر قلم اٹھایا، ان میں دو نام نمایاں ترین ہیں۔
اول رشیدہ جہاں، دوم عصمت چغتائی۔ البتہ برونٹے سسٹرز، شارلٹ اور ایملی کے ناموں کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا جوکہ انگریزی ادب میں بلند مقام کی حامل خواتین تھیں۔ بہرکیف ہاجرہ مسرور اور ان کی بڑی بہن خدیجہ مسرور نے کم عمری میں ہی اپنے قلم کو قوت بنا کر ادبی تخلیقات کا آغاز کر دیا۔ ان کی تحریریں ہمایوں، ساقی، خیام اور عالمگیر میں چھپنے لگیں، ان جرائد کے علاوہ ان دونوں بہنوں کی تحریریں دیگر جرائد میں بھی چھپتی تھیں جب کہ ہاجرہ مسرورکا اولین افسانہ ’’لاوارث لاش‘‘ دہلی کے ایک جریدے میں شائع ہوا تھا۔
اس کے بعد انھوں نے بمبئی کے جریدے میں لکھنا شروع کر دیا۔ یہ جریدہ مہینہ وار چھپتا تھا۔ اس جریدے میں ان کی تحریریں باقاعدہ شائع ہونے لگیں اور انھیں باقاعدہ معاوضہ بھی ملنے لگا۔ چنانچہ اس دور میں ہاجرہ مسرور اپنی بڑی بہن عائشہ کے پاس بمبئی تشریف لے گئیں۔ عائشہ کے شوہر جی ایم درانی تھے جوکہ ایک موسیقار تھے۔ اپنے بمبئی کے قیام کے دوران وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کی نشستوں میں بھی ذوق و شوق سے شرکت کرتیں۔ فقط 13 برس کی عمر میں ادبی دنیا میں قدم رکھنے والی ہاجرہ مسرور کے وہ افسانے جو کہ 1943 سے لے کر 1945 کے دوران لکھے گئے گیارہ افسانوں کا مجموعہ ’’ ہائے اللہ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس مجموعے کو نیا ادارہ کے مالک نذیر احمد چوہدری نے خصوصی اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔
یام پاکستان کے بعد ہاجرہ مسرور اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ کراچی آ گئیں اور کچھ عرصہ بعد لاہور میں قیام پذیر ہوگئیں۔ لاہور ہی میں ان کی ملاقات نامور ادیب احمد ندیم قاسمی سے ہوئی۔ یہ ضرور ہوا کہ قلم کار احمد ندیم قاسمی ہاجرہ مسرور کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے، اتنی چھوٹی عمر میں یہ لڑکی اتنی بڑی ادیبہ کیسے ہو سکتی ہے۔ یہ ملاقات ایسی تھی کہ ملاقات میں ہاجرہ مسرور اور احمد ندیم قاسمی بہن بھائی کے مقدس رشتے میں بندھ گئے ، گویا احمد ندیم قاسمی نے ہاجرہ مسرور کو منہ بولی بہن بنا لیا تھا اور بہن بھائی کا یہ مقدس رشتہ دم آخر تک قائم رہا جب کہ احمد ندیم قاسمی نے ان کو اپنی سرپرستی میں بھی لے لیا چنانچہ جب پاکستان میں انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام عمل میں آیا تو ہاجرہ مسرور انجمن ترقی پسند مصنفین کی ترقی کے لیے سرگرم ہو گئیں اور پوری تندہی سے ترقی پسند نظریات کے فروغ میں کوشاں ہو گئیں۔ یہ ضرور تھا کہ ان کی اور دیگر ادبا کی کوشش سے انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاس ہفتہ وار باقاعدگی سے ہونے لگے اورکثیر تعداد میں اہل ذوق ان اجلاسوں میں شرکت کرتے اور علمی تسکین پاتے۔
ہاجرہ مسرور نے فلمی دنیا میں بھی قدم رکھا اور ایک فلم ’’ آخری اسٹیشن‘‘ کی کہانی بھی لکھی۔ ان کی تحریرکردہ یہ کہانی بے حد پسند کی گئی اور فلم ’آخری اسٹیشن‘ ایک کامیاب ترین فلم قرار پائی۔ البتہ ہاجرہ مسرور کی شادی پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر و نامور صحافی احمد علی خان سے ہوئی لیکن جب احمد علی خان پاکستان ٹائمز چھوڑ کر ڈان سے منسلک ہو گئے تو پھر ان کا کراچی آنا ناگزیر تھا۔ یوں ہاجرہ مسرور ایک بار پھر کراچی آ کر فروکش ہو گئیں اور اپنی ادبی خدمات انجام دینے لگیں۔
ہاجرہ مسرور ایک باوقار زندگی بسرکر رہی تھیں کہ 1982 میں ان کو ایک ایسے صدمے سے دوچار ہونا پڑا کہ جس کے باعث وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں اور اتنا دل برداشتہ ہوئیں کہ انھوں نے قلم سے ناتا ہی ختم کردیا۔ سانحہ یہ ہوا کہ ہاجرہ مسرور کی بڑی بہن خدیجہ مسرور فقط 55 برس کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کرگئیں، شاید ممکن تھا کہ اس صدمے سے چھٹکارا پا لیتیں مگر ایک اور صدمہ ان کا منتظر تھا، وہ صدمہ تھا ان کے پیارے شوہر احمد علی خان کا وصال۔ احمد علی خان چونکہ خود بھی صحافت سے وابستہ تھے، اسی باعث وہ ہاجرہ مسرور کی ادبی مصروفیات میں دخیل نہیں ہوئے البتہ ہاجرہ مسرور ان دونوں پے در پے صدمات کے باوجود انجمن ترقی پسند مصنفین کی ہر نشست میں شرکت کرتیں اور نئے لکھنے والوں کے لیے ایک بہترین معلمہ کا کردار ادا کرتیں۔
17 جنوری 1930 میں شروع ہونے والا ان کی زندگی کا سفر 15 ستمبر 2012 کو اختتام پذیر ہوگیا۔ یوں ہاجرہ مسرور نے قریب قریب 82 برس 8 ماہ عمر پائی اور لکھنو میں ڈاکٹر تہور علی خان کے گھر جنم لینے والی ہاجرہ مسرور کراچی میں ابدی نیند سو رہی ہیں۔ان کے ادبی شہ پاروں میں چرکے، ہائے اللہ، چوری چھپے، اندھیرے اجالے، تیسری منزل، وہ لوگ اور چاند کے دوسری طرف قابل ذکر ہیں۔ انھوں نے سنگ میل اور روح ادب کے چند پرچے بھی ترتیب دیے۔ البتہ 17 جنوری کو ہاجرہ مسرور کا 97 واں یوم پیدائش و 96 ویں سالگرہ ہے۔ اس موقع پر ہم محترمہ ہاجرہ مسرور کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، اس عزم کے ساتھ کہ ترقی پسندی کا سفر ہم تادم جاری رکھیں گے۔