ایکسپریس نیوز کے مطابق گل پلازہ کے الم ناک سانحے کو 12 روز گزر چکے ہیں اور عمارت میں لگنے والی شدید آگ میں جاں بحق ہونے والے 6 افراد کی لاشیں مکمل اور ایک کی شناخت شناختی کارڈ کی مدد سے کی گئی تھی۔
گل پلازہ کی آگ پر 33 گھنٹوں سے زائد کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پایا گیا جس کے بعد سرچنگ کا آپریشن شروع کیا گیا جس میں گل پلازہ میں پھنس کر زندگی کی بازی ہارنے والوں کی ٹکڑوں میں سوختہ لاشیں اور ان کی ملنے والی باقیات ریسکیو کے عملے نے نکال کر اسپتال پہنچائی تھیں۔
سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کا عمل جہاں چیلنج بن گیا وہیں اس الم ناک سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہونے لگا ہے، سانحہ گل پلازہ کے بعد سے لاپتا ہونے والوں کے لواحقین کی آمد کا سلسلہ بھی تاحال جاری ہے۔
گل پلازہ آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے بشارت کے لواحقین کے اہلخانہ نے پولیس سرجن ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کیا ہے تاکہ ڈی این اے کے ذریعے ان کے پیارے کی شناخت کا عمل مکمل ہوسکے، اب تک سانحے میں جاں بحق ہونے والے 72 افراد میں سے 27 افراد کی شناخت کا عمل مکمل ہوچکا ہے جس میں سے 20 افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ممکن ہوئی جبکہ 6 افراد کی شناخت چہرہ شناسی اور ایک شہری کی شناخت اس کے پاس سے ملنے والی قومی شناخت کارڈ کے ذریعے ممکن ہوسکی ہے۔
ایکسپریس سے خصوصی گفگتو کرتے ہوئے سی پی ایل سی شناخت پروجیکٹ کے سربراہ عامر حسن نے بتایا کہ گل پلازہ میں کئی گھنٹوں تک آگ کے شعلے دھکتے رہے اور وہاں موجود افراد کے جسم حتیٰ کہ ہڈیاں تک جل کر راکھ میں بدل گئیں جس کے باعث جاں بحق ہونے والے تقریباً 40 افراد کی شناخت کے امکانات مکمل ختم ہوگئے کیونکہ گل پلازہ کی عمارت سے ملنے والی باقیات میں سے ڈی این اے کے لیے نمونہ ملنا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کی عمارت سے ملنے والی باقیات میں سے ڈی این اے کے لیے جانے والے نمونوں میں سے صرف 4 سے 5 افراد کے ڈی این اے کے نتائج آنے کی توقع ہے۔
عامرحسن نے مزید بتایا کہ پولیس سرجن ڈپارٹمنٹ اور سی پی ایل سی کی جانب سے جاں بحق افراد کے اینٹی موٹم ڈیٹا (موت سے پہلے) کی معلومات اور گل پلازہ میں موجودگی کے شواہد ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کو فراہم کر دیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ فراہم کردہ ڈیٹا میں جاں بحق ہونے والے افراد کے نام، گل پلازہ میں آگ لگنے سے پہلے ان کی موجودگی کے شواہد، ویڈیوز، موبائل فون ڈیٹا، لوکیشن، کپڑوں اور ذاتی اشیا کی معلومات شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس سرجن ڈپارٹمنٹ اور سی پی ایل کی جانب سے ناقابل شناخت باقیات کو لواحقین کے سپرد کس طرح کیا جائے اس حوالے سے سفارشات بھی ارسال کی گئی ہیں، جن سے پہلی اور بنیادی سفارش جاں بحق افراد کی پروف آف پریزن شامل ہے ۔
سربراہ شناخت پروجیکٹ کا کہنا تھا کہ اگر جاں بحق افراد کی ویڈیوز، لوکیشن، فون کالز، موبائل فون ڈیٹا سے ان کی موجودگی گل پلازہ میں ظاہر ہوتی ہے تو لواحقین کے گواہان کے بیانات لے کر باقیات اہل خانہ کے حوالے کی جاسکتی ہیں تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ضلعی اتنظامیہ اور حکومت کرے گی۔