عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس فیصلے کا اعلان آج ہی جنوبی افریقا کی وزارتِ خارجہ نے اپنے جاری کردہ خصوصی بیان میں کیا۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ سخت قدم ایسے غیرمعمولی اور ناقابل قبول واقعات کے بعد اٹھایا گیا جنھوں نے دوطرفہ سفارتی اصولوں اور جنوبی افریقا کی خودمختاری کو نقصان پہنچایا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی سفارت کار آریل سیڈمین نے سرکاری اسرائیلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جنوبی افریقا کے صدر سِریل راما فوسا پر توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔
آریل سیڈمین نے اپنے حکام بالا کو بھی جنوبی افریقا کے دوروں سے متعلق اطلاع نہیں دی تھی جسے سفارتی آداب کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ اسرائیلی سفارت کار نے اعتماد اور بنیادی سفارتی پروٹوکول کو نقصان پہنچایا اور ویانا کنونشن کے اصولوں کی خلاف ورزی کی۔
جنوبی افریقا نے اسرائیلی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ آئندہ سفارتی رویے میں احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے۔
جس کے جواب میں اسرائیل نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقا کے سفارتکار شاہان ایڈورڈ بائنیویلڈٹ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا۔
یاد رہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پہلے سے کافی شدید کشیدگی موجود ہے جو جنوبی افریقا کی عدالتِ بین الاقوامی انصاف میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات اور غزہ میں جاری تنازع کے تناظر میں مزید بڑھ گئی ہیں۔
جنوبی افریقا طویل عرصے سے فلسطینی عوام کی حمایت کرتا آیا ہے جب کہ اسرائیل ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا ہے۔