’’سر میرے ساتھ بڑی ناانصافی ہوتی ہے، ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارمنس اچھی ہے لیکن اس کے باوجود پی ایس ایل میں کوئی کھلانے کو تیار نہیں، سب بڑے ناموں کو ترجیح دیتے ہیں،آپ پلیز ایک موقع تو دے کر دیکھیں مایوس نہیں کروں گا‘‘
’’سر میں زندگی بھر آپ کا احسان مند ہوں گا مجھے اپنی ٹیم میں لے لیں حالات بہت خراب ہیں‘‘
’’ بھائی جان یہ بچہ بڑا اچھا ہے،اس کو ٹیم میں رکھ لیں ، میں بتا رہا ہوں جب کھیلا تو کمال کر دے گا‘‘
’’ ٹرائلز میں یہ لڑکا دیکھا ہے اس پر محنت کریں تو بڑا پلیئر بن سکتا ہے، رکھ لیتے ہیں اسے ساتھ‘‘
حالیہ مناظر
’’دیکھیں جی فلاں مجھے اتنے پیسے دینے کو تیار ہیں، آپ اس سے زیادہ دے دیں تو میں ٹیم نہیں چھوڑتا، ورنہ الوداع‘‘
’’ 80 لاکھ کی گاڑی سے اتر کر میٹنگ کیلیے آنے والے کرکٹر نے ٹیبل پر اپنا قیمتی آئی فون رکھا اور ٹیم آفیشل سے کہا جناب مجھے اپنا گھر بھی تو چلانا ہے، آپ جانتے ہیں مہنگائی آج کل کتنی ہے، راشن لینا مشکل ہو جاتا ہے،آپ اتنے پیسے دیتے ہیں تو ٹھیک ورنہ کوئی بات نہیں کسی اور سے بات کر لیں‘‘
’’ یہ ٹھیک ہے کہ میں آپ کی وجہ سے لیگ میں آیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہمیشہ اسی ٹیم میں رہوں گا، ہمارا کیریئر مختصر ہوتا ہے، مجھے اپنے بارے میں سوچنا ہے، فلاں ٹیم مجھے جتنا معاوضہ دے رہی ہے آپ نہیں دے سکتے، اس لیے ریٹین نہیں کریں اور جانے دیں‘‘
کہانی کا ایک رخ
پی ایس ایل شروع ہوئی تو آہستہ آہستہ پاکستانی کرکٹرز کی قسمت بدل گئی، اس سے پہلے وہ آئی پی ایل میں شرکت کرنے والے غیرملکی کرکٹرز کو رشک سے دیکھتے کہ کتنا کما رہے ہیں،اپنے ملک میں لیگ ہوئی تو انھیں بھی بھاری معاوضے ملنے لگے۔
پاکستانی ٹیم میں تو 11 کھلاڑی ہی کھیل پاتے ہیں،پی ایس ایل کی وجہ سے کئی سو کرکٹرز کی تقدید بدل گئی، اس میں اچھی پرفارمنس سے انھیں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا بھی موقع ملا،بعض کھلاڑیوں کو واقعی ٹرائلز سے اٹھا کر بڑی کرکٹ کھلا دی گئی اور وہ اسٹارز بن گئے۔
ان کی فرنچائز نے ہی بیرون ملک دیگر لیگز سے معاہدے کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا، پلیئرز کو پاکستان کے لحاظ سے اچھے معاوضے ملے، ان کا لائف اسٹائل تبدیل ہوا اور پیسے آ گئے، ٹیم آفیشلز اچھی طرح ان کا خیال بھی رکھتے لہذا چند کرکٹرز کے نام اپنی فرنچائز سے جڑ گئے۔
بعض پلیئرز بھولی بسری داستان بنے ہوئے تھے وہ بھی لیگ کے ذریعے ڈوبتے کیریئر کو بچانے میں کامیاب رہے، البتہ اب ڈرافٹ کے بجائے نیلامی اور 2 نئی فرنچائزز کی آمد سے توازن بدل گیا، 8 کے بجائے فی فرنچائز 4 ریٹینشن اور ہر کیٹیگری میں ایک ہی پلیئر کو برقرار رکھنے سے اب سب کو اپنے پرانے پلیئرز چھوڑنا پڑیں گے۔
البتہ اونرز کے لیے سب سے بڑا شاک یہ ہے کہ جنھیں جب کوئی نہیں پوچھ رہا تھا تب اسٹار بنانے میں اہم کردار کیا اب وہ بھی آنکھیں دکھا رہے ہیں، کئی فرنچائزز کے ’’وفادار‘‘ کرکٹرز خود کو ریلیز کرنے کا کہہ رہے ہیں، جو پہلے دن رات اپنی ٹیم کی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر دیتے تھے اب اچانک وہ انھیں بری لگنے لگی ہیں۔
میری 4 ٹیموں کے اعلیٰ حکام سے بات ہوئی وہ سب ہی یہ شکوہ کر رہے ہیں، یقینی طور پر پیسہ کمانا ہر کسی کا حق ہے لیکن گزشتہ سال تک تو وہ اپنی ٹیم کو ’’فیملی‘‘ قرار دیتے تھے،اب آپشنز نظر آنے پر اسے ہی چھوڑنے کو تیار ہو گئے۔
یہ کرکٹرز کسی کے نہیں ہوتے،ان کو ایک شاپ کا افتتاح کرنے کیلیے کوئی دوست بھی بلائے تو پہلے پیسے کا پوچھتے ہیں، جب کوئی لفٹ نہیں کراتا تھا تب کہتے ناں کہ فلاں سے آفر ہے جا رہا ہوں، ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے وقت کہاں تھیں آفرز،جب ٹیم آفیشلز کی منتیں کرتے تھے کہ بھائی کنٹریکٹ دلا دو تب کہاں تھے دیگر آگے پیچھے پھرنے والے لوگ۔
آج کل کے دور میں وفاداری بھی پیسے سے خریدی جا سکتی ہے، سب کی قیمت ہے ، آپ درست ریٹ لگائیں اور کر لیں ڈیل، ایسا ماضی میں ہوتا تھا جب کوئی اپنی ٹیم کیلیے کروڑوں کی آفر بھی مسترد کر دیتا جیسے کہ سرفراز احمد نے کی تھی۔
زیادہ پیسے کمانا سب کا حق ہے لیکن اس کیلیے اپنی ٹیم سے مناسب انداز میں بات ہو سکتی تھی بلیک میلنگ تو کوئی طریقہ نہیں ہے، حد تو یہ ہے جونیئر کرکٹرز کے ایجنٹس بھی منہ کھولے بیٹھے ہیں کہ وہ تو اتنے لے گا ورنہ آپ کسی اور سے معاہدہ کر لیں، پلیئر آکشن کی صورت میں بوتل سے جن کو باہر نکال دیا گیا اب واپس بھیجنا مشکل ہے۔
البتہ ایسا صرف آکشن کی تاریخ تک ہی ہے نئی ٹیمیں 50 کھلاڑیوں کو تو لے نہیں سکتیں،بجٹ بھی محدود ہے لہذا جو باقی رہ گئے وہ زمین پر واپس آ جائیں گے، پھر بھاری معاوضوں پر دوسری ٹیموں میں جانے والے اگر پرفارم نہ کر سکے تو انھیں نتائج بھی بھگتنا پڑیں گے۔
ویسے اسٹارز کو اس سے فرق نہیں پڑنا ان کے پاس اتنی دولت ہے کہ اس میں سے کئی کروڑ روپے کوئی لے کر بھاگ بھی جائے تو فرق نہیں پڑتا، شکایت اس وجہ سے درج نہیں کراتے کہ پیسہ کہاں سے آیا ٹیکس کیوں نہیں دیا یہ بتانا پڑے گا، پریشان دیگر کھلاڑی ہوں گے۔
کہانی کا دوسرا رخ
پیسہ کمانے کا حق سب کو ہے، میڈیا سمیت تمام ملازمتوں میں جب کسی کو اچھے مواقع ملیں تو وہ جاتا ہے پھر کرکٹرز کیوں نہ جائیں؟ ان کا کیریئر بھی مختصر ہوتا ہے اس میں جتنا کما لیں وہ اچھا ہے، بعد میں کون پوچھتا ہے؟ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا معاملہ ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ اگر کسی کو ہیرو جلدی بنا دیتی ہے تو زیرو بنتے بھی دیر نہیں لگتی، جو آپ کے عروج کا وقت ہے اسے کیش کرانا چاہیے، اگر کوئی چند برس کسی ٹیم کی نمائندگی کر لے تو اس کی جاگیر نہیں بن جاتا، اسے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کا پورا حق ہے،سب کی اپنی فیملیز ہیں ان کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔
وقت کے ساتھ سب ہی ترقی کرتے ہیں، کل کوئی بس میں سفر کرتا تھا آج ایس یو وی بھی گھوم رہا ہے تو یہ اس کی کامیابی ہے، مذاق اڑانے کے بجائے محنت کا اعتراف کریں،اگر کسی کو بڑی آفر ہے تو اس کے برابر معاوضہ دیں یا جانے دیں، ایموشنل بلیک میل نہ کریں۔
لیگز میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ، پی ایس ایل نے بھی خود کو نہ بدلا تو پیچھے رہ جائے گی، آکشن ماڈل اچھا ہے اس سے کھلاڑیوں کو فائدہ ہوگا ، ساتھ فرنچائزز کو بھی مدد ملے گی، کم پلیئرز کی ریٹینشن بھی درست فیصلہ ہے ورنہ لیگ کی مسابقت ختم ہو جاتی اور دونوں نئی ٹیموں کو ٹیلنٹ نہ مل پاتا۔
فیصلہ آپ کا
قارئین میں نے کہانی کے دونوں پہلو آپ کے سامنے رکھ دیے، ہر کوئی اپنے انداز سے سوچتا ہے، ابھی یہی بحث چلی ہوئی ہے کہ ’’پیسہ یا وفاداری‘‘ آپ کسے درست سمجھتے ہیں ضرور بتایئے گا، ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ لیگ بہتر ہو ساتھ فرنچائز اور کرکٹرز کا نقصان بھی نہ ہو۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)