پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے رجوع کرنے کے بھارتی دعوؤں کی تردید کر دی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارتی میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پی سی بی نے آئی سی سی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ترجمان پی سی بی عامر میر نے کہا ہے کہ بھارتی صحافی وکرانت گپتا نے دعویٰ کیا ہے کہ پی سی بی نے آئی سی سی سے بات چیت کے لیے رابطہ کیا، وہ اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔
وکرانت گپتا نے ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ آئی سی سی کی جانب سے ممکنہ قانونی نتائج سے آگاہ کرنے کے بعد پی سی بی نے مسئلے کے حل کے لیے آئی سی سی سے رابطہ کیا ہے۔
تاہم پی سی بی کے ترجمان کے مطابق بھارتی میڈیا کا ایک مخصوص حلقہ ہمیشہ کی طرح من گھڑت کہانیاں بنا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھوڑا سا انتظار اور وقت خود واضح کر دے گا کہ کون کس سے رابطہ کر رہا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے قومی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی ہے تاہم بھارت کے خلاف 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان نے یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر کیا ہے، جسے سیکیورٹی خدشات کی شکایت پر بھارت میں کھیلنے سے انکار پر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ کرکٹ کے سب سے زیادہ منافع بخش مقابلوں میں شمار ہوتا ہے، جس سے براڈکاسٹنگ، اسپانسرشپ اور اشتہارات کی مد میں کروڑوں ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔ میچ نہ کھیلنے کی صورت میں پاکستان کو دو پوائنٹس کا نقصان اور نیٹ رن ریٹ پر منفی اثر پڑے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سری لنکا کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان سے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ سری لنکا کرکٹ کے مطابق میچ نہ ہونے سے مالی نقصان کے ساتھ سیاحت پر بھی منفی اثر پڑے گا، جو 2022 کے معاشی بحران کے بعد اب بہتر ہورہی ہے۔
دوسری جانب قومی ٹیم کے کپتان سلمان آغا کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت سیمی فائنل یا فائنل میں آمنے سامنے آئے تو اس حوالے سے حکومتی مشاورت سے فیصلہ کیا جائے گا۔