وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو اور موجودہ قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز اگرچہ ایک مسیحی اکثریتی ملک میں کیتھولک عقیدے کے ساتھ پروان چڑھے ہیں، لیکن امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان دونوں کی زندگیوں پر ایک متنازع بھارتی روحانی پیشوا ستھیا سائی بابا کے گہرے اثرات نمایاں ہیں۔
ستھیا سائی بابا کا انتقال 2011 میں ہوا تھا، لیکن ان کا اثر آج بھی وینزویلا کی اعلیٰ قیادت پر نظر آتا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق، وینزویلا میں یہ بات عام ہے کہ لوگ اپنے روایتی مذہب کے ساتھ ساتھ دیگر روحانی سلسلوں کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق صدر نکولس مادورو اکثر اپنی تقریروں میں مسیح اور خدا کا ذکر کرتے تھے، لیکن وہ سائی بابا کے بھی بڑے مداح رہے ہیں۔
حال ہی میں امریکی فورسز کے ہاتھوں اپنی گرفتاری سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے سوشل میڈیا پر سائی بابا کی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے ایک پیغام جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ ان کی حکمت ملک کو امن اور محبت کے راستے پر چلانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
اسی طرح قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے بھی حال ہی میں بھارت میں سائی بابا کے آشرم کا دورہ کیا اور بتایا کہ مشکل وقت میں وہ سائی بابا کی موجودگی کو اپنے قریب محسوس کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سائی بابا نے انہیں ہمیشہ امن اور باہمی احترام کا راستہ دکھایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، نکولس مادورو کے دفتر میں جہاں ملک کے دیگر بڑے رہنماؤں کی تصویریں لگی تھیں، وہاں سائی بابا کی ایک بڑی تصویر بھی نمایاں طور پر آویزاں رہتی تھی۔
اس حوالے سے 2005 کی ایک تصویر بھی سامنے آئی ہے جس میں مادورو اور ان کی اہلیہ سائی بابا کے قدموں میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔
سائی بابا کی وفات پر مادورو نے ملک میں سرکاری سوگ کا اعلان بھی کیا تھا۔
وینزویلا میں سائی بابا کی تنظیم دہائیوں سے سرگرم ہے اور وہاں ایک اسکول بھی چلا رہی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق وینزویلا میں ان کے چاہنے والوں کی تعداد دو لاکھ کے قریب ہے جبکہ دنیا بھر میں ان کے کروڑوں پیروکار موجود ہیں۔
مذہبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے سیاست دانوں کے لیے مختلف عقیدوں کو ساتھ لے کر چلنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔
وہ ایک طرف سائی بابا کے عقیدت مند ہو سکتے ہیں تو دوسری طرف پادریوں کے ساتھ بھی قریبی تعلقات برقرار رکھتے ہیں۔
سائی بابا کو بعض حلقوں، خاص طور پر عقلیت پسندوں اور سائنس دانوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے ان پر معجزاتی طور پر اشیاء ظاہر کرنے کے ڈھونگ کا الزام لگایا۔
ان پر دھوکہ دہی، جنسی استحصال اور قتل جیسے مجرمانہ الزامات بھی لگے، لیکن ان پر کبھی بھی ان میں سے کسی جرم کی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
ان کے پیروکاروں نے ان الزامات کو بہتان اور پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا۔
ان کے چاہنے والوں میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے بڑے سیاست دان، کھلاڑی اور فلمی ستارے شامل ہیں۔