مسافر زیمبیا سے ایتھوپیا کے راستے پاکستان پہنچے تھے۔ حراست میں لیے گئے مسافروں میں مزمل علی، محمد ارسلان اور محمد اویس شامل ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں مسافروں نے اعتراف کیا کہ وہ غیر قانونی طور پر جنوبی افریقہ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
مزمل علی نے گجرات کے ایجنٹ نوید کے ذریعے 18 لاکھ روپے کے عوض غیر قانونی سفری انتظامات کروائے، جبکہ محمد ارسلان اور محمد اویس نے ایجنٹ ندیم کو فی کس 3000 امریکی ڈالر ادا کیے۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق مسافر ڈیڑھ ماہ تک تنزانیہ میں قیام کے بعد غیر قانونی طور پر زیمبیا داخل ہوئے اور بعد ازاں جنوبی افریقہ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق زیمبیا حکام نے مسافروں کو غیر قانونی سفر پر گرفتار کر کے واپس ڈی پورٹ کیا۔ ایف آئی اے نے مسافروں کو مزید تحقیقات کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا ہے۔