سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک تصویر بہت وائرل ہوئی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ غلافِ کعبہ کو زمین پر بچھایا گیا ہے۔ اس تصویر نے مسلمانوں میں شدید جذبات کو جنم دیا، کیونکہ غلافِ کعبہ جسے ”کسوہ“ بھی کہا جاتا ہے، ہمارے ایمان اور تقدس سے جڑا ہوا ہے۔
اس کے ساتھ ہی مذہب اسلام ہمیں جذبات پر قابو پانے اور کسی بھی قسم کی معلومات کو پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق کرنے کا حکم دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بغیر تحقیق کے خبر نہ پھیلائیں، اور نبی کریم ﷺ نے بھی تصدیق کے بغیر بات کرنے سے منع فرمایا ہے۔ خاص طور پر جب معاملہ مقدس چیزوں سے جڑا ہو، تو احتیاط اور سچائی ایک امانت کے مترادف ہے۔
انسائیڈ دی حرمین کی ٹیم نے اس وائرل تصویر کا جائزہ لیا اور حرم شریف کے اندر کام کرنے والے ماہرین سے مشورہ کیا جنہیں کسوہ کے بارے میں مکمل معلومات اور تصدیق شدہ حوالہ جات موجود ہیں۔ ماہرین نے تصویر کا بغور تجزیہ کرنے کے بعد واضح طور پر کہا کہ یہ تصویر اصلی کسوہ کی نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق، تصویر میں دکھائے گئے کپڑے کی لمبائی اور چوڑائی اصلی کسوہ کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔ اصل کسوہ کے بڑے پینلز میں عام طور پر سات سے آٹھ افراد کے ساتھ اسے پکڑنا یا حرکت دینا ممکن ہوتا ہے، جبکہ وائرل تصویر میں کپڑا اتنا چھوٹا لگتا ہے کہ صرف تین یا چار افراد اسے سنبھال سکتے ہیں۔
مزید برآں، کپڑے کا وزن اور ساخت بھی اصلی غلافِ کعبہ یا کسوہ سے مختلف نظر آتی ہے۔ اصل کسوہ بھاری اور مضبوط ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ زمین پر ایسے ہلکے اور نرم اندا زمیں مڑ نہیں سکتا، جیسے وائرل تصویر میں دکھائی دے رہا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ اصلی کسوہ کی موٹائی اور کڑھائی اسے خاص ساخت اور شکل دیتی ہے جو اس تصویر میں موجود نہیں ہے۔

تصویر میں کسوہ کی کنٹراسٹ اور آؤٹ لائننگ بھی اصلی کسوہ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اصلی کسوہ میں سیاہ رنگ کے فریم اور نقش واضح ہوتے ہیں، جبکہ وائرل تصویر میں یہ فرق بہت کم یا غیر واضح ہے۔ کناروں اور بارڈر کی ساخت بھی اصلی کسوہ کے مطابق نہیں ہے۔
ماہرین نے کسوہ کے مختلف نمونوں، کناروں اور گول مدالین کی تفصیل کا جائزہ لیا اور پایا کہ وائرل تصویر میں یہ نمونے اصلی کسوہ کے مطابق نہیں ہیں۔ اگرچہ نقلی کسوہ دیکھنے میں اصل کی طرح لگ سکتی ہے، لیکن نمونوں، بارڈرز اور مدالین کی جگہ پر فرق سب سے واضح نشانی ہے کہ یہ اصلی نہیں ہے۔
انسائیڈ دی حرمین کا کہنا ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ مقدس چیزوں کے بارے میں ثبوت اور تصدیق کے بغیر کوئی دعویٰ نہ کیا جائے۔ وائرل تصویر کو اصل کعبہ کی کسوہ قرار دینا درست نہیں۔ تصویر کی سچائی کے بارے میں کوئی حتمی دعویٰ صرف واضح ثبوت کے بعد کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے آخر میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سچائی، صبر اور احتیاط عطا فرمائے اور ہمیں ایسی باتیں پھیلانے سے بچائے جو ہمیں معلوم نہ ہوں۔