کیا اسکول کھولنے کے لیے تعلیمی پس منظر ضروری ہے؟

0 minutes, 0 seconds Read

رمضان کی رحمتوں اور برکتوں کا ماہِ مبارک اپنی پوری آب و تاب سے روشنی بکھیر رہا ہے، رمضان ٹرانسمیشن میں بھی اہم معاملات اور موضوعات پر پروگرامز جاری ہیں۔ شہریار عاصم کے سوالات بعض اوقات چونکا دینے والے ہوتے ہیں، کیونکہ وہ ایسے پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں جن پر آج کل کم ہی بات ہوتی ہے۔ ان کے پروگرامز کا مقصد نہ صرف معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنا ہے بلکہ پاکستان کی ترقی اور عوام کی بہتری کے لیے ممکنہ حل تلاش کرنا بھی ہے۔

آج نیوز کے اسپیشل پروگرام میں ماہرِ تعلیم محمد حسن خان کو مدعو کیا گیا، جہاں شہریار عاصم نے ان سے ایک نہایت اہم اور بنیادی سوال پوچھا، ’کیا اسکول کھولنے کے لیے تعلیمی پس منظر ضروری ہے؟ اور اسکول اونرز کو کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے؟‘

محمد حسن خان نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسکول کھولنا کوئی معمولی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ ایک اسکول درحقیقت بچے کے 16 سالوں کے تعلیمی سفر کی بنیاد رکھتا ہے، جہاں بچے صرف نصابی تعلیم ہی نہیں بلکہ اپنی شخصیت اور مستقبل کی تعمیر بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس فیلڈ میں وہی لوگ آئیں جو تجربہ کار ہوں اور تعلیمی مہارت رکھتے ہوں، کیونکہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ذرا سی لاپروائی بھی ایک پوری نسل کو متاثر کر سکتی ہے۔

فروغ تعلیم کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کے انقلابی فیصلے، ہر سال 2 ملین بچوں کی انرولمنٹ کا ہدف دے دیا

شہریار عاصم نے آج کے ایک عام رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جس کے پاس پیسہ ہو، وہ اسکول کھول لیتا ہے، چاہے اسے تعلیم کے بنیادی اصولوں کی سمجھ بوجھ ہو یا نہ ہو یا ان کا کوئی پس منظر بھی نہ ہو، انہوں نے پوچھا کہ کیا اسکول کھولنے کے لیے کوئی معیار یا قانون ہونا چاہیے؟

ماہرِ تعلیم محمد حسن خان نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بلکل اس فیلڈ میں وہی لوگ آئیں جو تعلیمی پس منظر یا بیک گراؤنڈ رکھتے ہیں۔

انیوں نے کہا کہ پہلے زمانے میں صرف وہی لوگ اسکول کھولتے تھے جو تعلیمی میدان میں رول ماڈل ہوتے تھے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حکیم محمد سعید جیسے افراد کو حکومت خود اسکول کھولنے کی اجازت دیتی تھی، کیونکہ ان پر اعتماد کیا جاتا تھا اور وہ تعلیم کو ایک مقدس ذمہ داری سمجھتے تھے، نہ کہ منافع بخش کاروبار۔

وزیر تعلیم سندھ کے آبائی ضلع میں 712 اساتذہ مفرور اور غیر حاضر ہونے کا انکشاف

محمد حسن خان نے مزید کہا کہ آج کل اسکول ایک کاروبار بن چکے ہیں، جہاں تعلیم سے زیادہ منافع کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بہت سے تعلیمی ادارے ہیں انکے فرنچائز ماڈل ہیں، جس میں معیار اور تربیت کے بجائے برانڈنگ اور فیس پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے اور ایسے اصول و ضوابط بنانے چاہئیں جو اس شعبے کو صرف اہل اور مستحق افراد تک محدود رکھیں۔

محمد حسن خان کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اسکول کھولنا صرف ایک کاروباری موقع نہیں، بلکہ ایک عظیم قومی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے صرف پیسے کا ہونا کافی نہیں، بلکہ تعلیم، مہارت، اور بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کا جذبہ ہونا لازمی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اسکول کھولنے کے لیے کچھ معیارات مقرر کرے تاکہ صرف وہی لوگ اس شعبے میں آئیں جو واقعی بچوں کی تعلیم اور تربیت کو اپنا مشن سمجھتے ہیں۔

Similar Posts