شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد دہشت گرد اپنے زخمی ساتھیوں کو لے کر فرار ہونے پر مجبور ہوگئے جبکہ پولیس کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
تفصیلات کے مطابق رات تقریباً ساڑھے 12 بجے 30 سے 35 دہشت گردوں نے ٹوچی دریا کے قریب واقع دور افتادہ پولیس چوکی مزنگہ پر متعدد سمتوں سے بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں پر براہ راست فائرنگ شروع کر دی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں یاسر آفریدی کی قیادت میں پولیس لائنز سے تازہ دم دستے روانہ کیے گئے، جبکہ چوکی فاتح خیل، سردی خیل اور جانی خیل سے بھی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے شدید مقابلے میں دہشت گردوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ اپنے زخمی ساتھیوں کو موٹر سائیکلوں پر لاد کر فرار ہوگئے۔
حملے کے دوران مزنگہ کے مقامی عوام بھی پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ مقامی افراد گھروں سے نکل آئے اور دہشت گردوں کے خلاف فائرنگ کر کے سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دیا، جس سے یہ واضح پیغام ملا کہ عوام اور پولیس دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔
ڈی آئی جی بنوں سجاد خان نے جوانوں کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ چوکی مزنگہ کا کامیاب دفاع پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے لیے بنوں کی زمین تنگ کر دی گئی ہے اور عوام کا پولیس کے ساتھ مل کر لڑنا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابی ہے۔
انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے بھی بنوں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جس طرح پولیس اور عوام نے مل کر فتنہ الخوارج کو پسپا کیا وہ پوری فورس کے لیے مثال ہے۔ انہوں نے بہادر اہلکاروں کے لیے خصوصی انعامات اور اسناد کا اعلان بھی کیا۔
واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔