یورپی یونین کے اجلاس کے موقع پر جرمنی کے وزیر خارجہ یوهان واڈیفل نے کہا کہ ان کا ملک موجودہ تنازع میں کسی فوجی مشن میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو اپنے اہداف اور حکمت عملی کے بارے میں اتحادیوں کو واضح معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی کہا کہ ان کا ملک فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا، تاہم وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرے گا۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی واضح کیا کہ ان کا ملک اس تنازع کو نیٹو مشن نہیں سمجھتا اور وہ وسیع جنگ میں شامل نہیں ہوگا، البتہ اتحادیوں کے ساتھ مختلف آپشنز پر بات چیت جاری ہے۔
دیگر یورپی ممالک جیسے نیدرلینڈز، یونان اور اٹلی نے بھی امریکی تجویز پر محتاط ردِعمل دیتے ہوئے فوری فوجی کارروائی کو مشکل قرار دیا ہے، جبکہ پولینڈ نے کہا کہ اگر نیٹو کے ذریعے باقاعدہ درخواست آئی تو اس پر غور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں سے آبنائے ہرمز میں بحری اتحاد قائم کرنے کی اپیل کی تھی تاکہ عالمی تیل کی ترسیل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال کشیدہ ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں اور تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔