جنگ سے کب کسی کا فائدہ ہوا ہے؟

0 minutes, 0 seconds Read
انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے اور وہ ہے جنگ۔ تہذیبوں کے آغاز سے لے کر آج کے جدید دور تک انسان نے ترقی بھی کی اور تباہی کے طریقے بھی ایجاد کیے۔

بظاہر جنگیں مختلف وجوہ کی بنا پر لڑی جاتی ہیں،کبھی سرحدی تنازعات،کبھی نظریاتی اختلافات کبھی مذہب اورکبھی قومی مفادات کے نام پر۔ مگر جب ان جنگوں کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے جنگ واقعی کیوں کرائی جاتی ہے اور آخر اس سے فائدہ کس کو ہوتا ہے؟

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنگ عموماً عوام کی خواہش نہیں ہوتی۔ عام انسان امن، روزگار، تعلیم اور بہتر زندگی چاہتا ہے۔ جنگ کا فیصلہ زیادہ تر ریاستی قیادت طاقتور حلقوں یا عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحت ہوتا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ جنگوں کے پسِ پردہ اکثر معاشی سیاسی اور جغرافیائی مفادات ہوتے ہیں جنہیں عوام کے سامنے کسی اور شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔

جنگ کی ایک بڑی وجہ وسائل پر قبضہ ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں تیل، گیس، معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں۔ طاقتور ممالک یا گروہ ان وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے براہِ راست یا بالواسطہ جنگوں کو ہوا دیتے ہیں۔

جب کسی خطے میں وسائل کی اہمیت بڑھتی ہے تو وہاں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے اور اکثر یہی عدم استحکام جنگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

اس طرح وسائل پرکنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری اہم وجہ سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ ہے۔ عالمی سیاست میں ہر بڑی طاقت اپنی برتری قائم رکھنا چاہتی ہے۔

اس مقصد کے لیے وہ اپنے اتحادیوں کو مضبوط کرتی ہے اور مخالف قوتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

بعض اوقات یہ کشمکش براہِ راست جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ سرد جنگ کے دور میں دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بڑی طاقتیں مختلف خطوں میں پراکسی جنگوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتی رہیں۔

جنگ کی ایک اور وجہ قوم پرستی اور جذباتی بیانیہ بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات حکومتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے قوم پرستی کو ابھارتی ہیں۔

میڈیا اور سیاسی بیانات کے ذریعے ایسا ماحول بنایا جاتا ہے کہ دشمن کے خلاف جنگ کو قومی فریضہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح عوام جذباتی طور پر جنگ کی حمایت کرنے لگتے ہیں حالانکہ اصل فیصلے کہیں اور کیے جا رہے ہوتے ہیں۔

اگر یہ دیکھا جائے کہ جنگ سے فائدہ کس کو ہوتا ہے تو اس کا جواب زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔ جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ اسلحہ بنانے والی صنعتوں کو ہوتا ہے۔ دنیا میں اسلحے کی صنعت ایک بہت بڑی معیشت بن چکی ہے۔

جب کہیں جنگ یا کشیدگی بڑھتی ہے تو ہتھیاروں کی طلب بھی بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً اس صنعت سے وابستہ کمپنیاں اور طاقتور معاشی حلقے اربوں ڈالر کماتے ہیں۔اس کے علاوہ بعض سیاسی قیادتیں بھی جنگ سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔

جب کسی ملک میں اندرونی مسائل بڑھ جاتے ہیں جیسے معاشی بحران سیاسی عدم استحکام یا عوامی ناراضگی تو بعض حکومتیں بیرونی دشمن کا بیانیہ بنا کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دیتی ہیں۔ اس حکمت عملی کو تاریخ میں کئی بار استعمال کیا گیا ہے۔ جنگی فضا پیدا ہونے سے حکومت کو وقتی طور پر عوامی حمایت بھی مل جاتی ہے۔

جنگ کا ایک فائدہ جغرافیائی اور اسٹرٹیجک کنٹرول کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے، اگر کوئی طاقتور ملک کسی اہم خطے پر کنٹرول حاصل کر لے تو اسے عالمی سیاست میں زیادہ طاقت مل جاتی ہے۔

سمندری راستوں معدنی وسائل یا اہم تجارتی گزرگاہوں پر قبضہ عالمی طاقتوں کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ اس لیے بعض جنگیں دراصل ان علاقوں کے کنٹرول کے لیے لڑی جاتی ہیں۔تاہم جنگ کے نقصانات ہمیشہ عام انسان کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

جنگ کے میدان میں جان دینے والے زیادہ تر عام سپاہی ہوتے ہیں جو اکثر غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کے خاندان جنگ کے بعد بھی صدمے اور مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ شہروں کی تباہی معیشت کی بربادی مہاجرین کا بحران اور سماجی انتشار جنگ کے وہ اثرات ہیں جو نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔

جنگ کا سب سے بڑا نقصان انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ ہر جنگ ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کی جان لے لیتی ہے۔

اس کے علاوہ تعلیم، صحت اور ترقی کے وسائل بھی جنگی اخراجات میں صرف ہو جاتے ہیں، اگر یہی وسائل عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں تو دنیا کہیں زیادہ پرامن اور خوشحال ہو سکتی ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سماج کی نفسیات پر بھی گہرے اثرات چھوڑتی ہیں۔ نفرت، عدم برداشت اور خوف کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔

بچے اور نوجوان ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں تشدد کو معمول سمجھا جانے لگتا ہے۔ اس طرح جنگ کے اثرات صرف موجودہ نسل ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

آج کے دور میں جب دنیا سائنسی ترقی اور عالمی رابطوں کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جنگ کی ضرورت اور بھی کم ہو جانی چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے طاقت مفادات اور سیاست کا کھیل اب بھی جاری ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری مکالمہ اور تعاون کو ترجیح دے۔حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی بھی مستقل حل فراہم نہیں کرتی۔

جنگ عارضی طور پر کسی مسئلے کو دبا سکتی ہے مگر اس کے نتیجے میں نئے مسائل جنم لے لیتے ہیں۔ پائیدار امن صرف انصاف برابری اور باہمی احترام کے اصولوں پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنگ کا اصل فائدہ چند طاقتور حلقوں کو ہوتا ہے جب کہ اس کی قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔

اس لیے انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ ہم جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیں اور اختلافات کو مکالمے اور سمجھداری سے حل کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ ایک پرامن دنیا ہی وہ خواب ہے جس میں انسان اپنی اصل صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

Similar Posts