عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسی تناظر میں ایک صحافی نے اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق سوال کیا۔
جس پر امریکی صدر نے کہا کہ امریکا مستقبل قریب میں امریکی افواج ایران جنگ سے واپس آ جائیں گی لیکن فی الحال ایسا ہونا فوری طور پر ممکن نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا ابھی ایران چھوڑ دے تب بھی ایران کو اپنی فوجی صلاحیتیں بحال کرنے میں تقریباً 10 سال لگ سکتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ لیکن ہم ابھی ایران نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن بہت جلد ہم وہاں سے نکل جائیں گے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کو کئی ممالک کی حمایت حاصل ہے، تاہم نیٹو ممالک کی جانب سے تقریباً کوئی تعاون نہیں ملا۔
صدر ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو ایک اچھے انسان قرار دیتے ہوئے شکوہ کیا کہ مجھے مایوسی ہوئی ہے کہ برطانیہ نے اب دو طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی جب کہ خطرہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔