کیا ایران دنیا بھر کا انٹرنیٹ بند کر سکتا ہے؟

0 minutes, 0 seconds Read

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ اب ایک ایسے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں نہ صرف تیل کی سپلائی بلکہ عالمی انٹرنیٹ کا نظام بھی داؤ پر لگ گیا ہے۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی توانائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے، وہاں سمندر کی تہہ میں وہ فائبر آپٹک کیبلز بھی موجود ہیں جو پوری دنیا کے انٹرنیٹ ٹریفک کو ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچاتی ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کیبلز کو کوئی نقصان پہنچا تو دنیا بھر میں بینکنگ سسٹم، اسٹاک مارکیٹ، اسپتال اور مصنوعی ذہانت کی سروسز مفلوج ہو کر رہ جائیں گی۔

آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں باب ال مندب وہ دو راستے ہیں جو عالمی ڈیجیٹل نظام کی شہ رگ ہیں، جہاں سے تقریباً 20 بڑی انٹرنیٹ کیبلز گزرتی ہیں۔

ان میں سے کئی کیبلز ایسی ہیں جو براہِ راست جنوبی ایشیاء کے سمندر پار ڈیٹا کنیکشنز کو سہارا دیتی ہیں۔

عالمی ٹیلی کام اور ڈیجیٹل ڈھانچے کی خبریں فراہم کرنے والی ویب سائٹ ’کپیسٹی گلوبل‘ کے مطابق، سترہ سب میرین کیبلز بحیرہ احمر سے گزرتی ہیں۔ یہ کیبلز یورپ، ایشیا اور افریقہ کو جوڑنے والے انٹرنیٹ ٹریفک کا بڑا حصہ کور کرتی ہیں۔

آبنائے ہرمز سے گزرنے والی کیبلز بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہیں۔

کیبل ڈیٹا فراہم کرنے والے بڑے ادارے ’ٹیلی جیوگرافی‘ کی رپورٹ کے مطابق، خلیج فارس میں اس وقت اے اے ای-1 ، فالکن، گلف برج انٹرنیشنل کیبل سسٹم اور ٹاٹا-ٹی جی این گلف نامی کیبلز فعال ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث فیس بک کی ملکیتی کمپنی ’میٹا‘ کو اپنے 45 ہزار کلومیٹر طویل ’ٹو افریقہ‘ (2Africa) سب میرین کیبل منصوبے کے خلیج فارس والے حصے پر کام روکنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، اس نیٹ ورک کی تعمیر کرنے والی کمپنی ’الکاٹیل سب میرین نیٹ ورکس‘ نے اپنے صارفین کو کام کی معطلی کے قانونی نوٹس (فورس میجور) بھیج دیے ہیں۔ کمپنی کا کیبل بچھانے والا بحری جہاز ’الی ڈی بیٹز‘ اس وقت سعودی عرب کی دمام بندرگاہ پر پھنسا ہوا ہے۔

’ٹو افریقہ‘ دنیا کا سب سے بڑا سمندری مواصلاتی منصوبہ ہے۔ اس کیبل کا مرکزی حصہ، جو افریقی براعظم کے بڑے حصے کا احاطہ کرتا ہے، گزشتہ سال کے آخر میں مکمل کر لیا گیا تھا۔

میٹا کی سربراہی میں کام کرنے والے اس کنسورشیم کا ارادہ تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا حصہ اسی سال فعال کر دیا جائے تاکہ اسے عمان، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، عراق اور سعودی عرب کے لینڈنگ اسٹیشنوں سے جوڑا جا سکے، تاہم ان تمام ممالک کو ایران کی جانب سے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس سمندری کیبل کو پاکستان اور بھارت سے بھی منسلک کیا جانا تھا۔

علاوہ ازیں، ایمیزون، مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی بڑی کمپنیوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں اربوں ڈالر کے ڈیٹا سینٹرز بنا رکھے ہیں تاکہ اس خطے کو ٹیکنالوجی کا مرکز بنایا جا سکے، لیکن اب یہ تمام سرمایہ کاری خطرے میں دکھائی دے رہی ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں، جس کی وجہ سے مرمت کرنے والے بحری جہاز ان علاقوں میں جانے سے کترا رہے ہیں، کیونکہ جنگی حالات میں وہاں کام کرنا انتہائی پُرخطر ہے۔

ماضی میں یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں کی وجہ سے جب بحیرہ احمر میں کیبلز کو نقصان پہنچا تھا تو ایشیا اور افریقہ کے کئی حصوں میں انٹرنیٹ کی رفتار شدید متاثر ہوئی تھی اور اس کی مرمت میں کئی ماہ لگ گئے تھے۔

موجودہ صورتحال اس لیے زیادہ سنگین ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں پانی کی گہرائی صرف 200 فٹ ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ قیمتی کیبلز بہت کم گہرائی میں موجود ہیں اور انہیں آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اگر ایران یا اس کے حامی گروہ ان کیبلز کو کاٹ دیتے ہیں تو انٹرنیٹ کا ٹریفک طویل اور متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑے گا، جس سے پوری دنیا میں ڈیٹا کی منتقلی میں شدید تاخیر پیدا ہوگی۔

فی الحال عالمی انٹرنیٹ کا نظام کام کر رہا ہے، لیکن سمندر میں بچھی بارودی سرنگیں اور مرمتی جہازوں کا داخلہ بند ہونے کی وجہ سے خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔

اگر یہ کیبلز کٹ گئیں تو صرف ویب سائٹس بند ہونے کا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا بلکہ عالمی معیشت کو روزانہ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

اس بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جدید دنیا کا ڈیجیٹل نظام کتنا حساس ہے اور ایک علاقائی جنگ کس طرح پوری دنیا کو رابطوں سے محروم کر کے اندھیروں میں دھکیل سکتی ہے۔

Similar Posts