اسرائیلی فوج نے ایران کی اہم دفاعی اور اسلحہ ساز تنصیبات کے خلاف کارروائیاں مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک ایک ہزار سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے.
اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے اسلحہ تیار کرنے والے اہم مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ان تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ نہیں کر دیا جاتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک ایک ہزار سے زائد ایسے مقامات پر حملے کیے جا چکے ہیں جو ہتھیاروں کی تیاری سے منسلک تھے۔ ان کے بقول ان حملوں کے بعد ایران کی عسکری صلاحیت کا بڑا حصہ متاثر ہو چکا ہے اور ان تنصیبات کی بحالی میں طویل وقت لگے گا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر سینکڑوں میزائل داغنے کا منصوبہ تھا، تاہم اب وہ اس مقصد کو حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہے اور کم تعداد میں میزائل فائر کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جمعہ کے روز اسرائیل نے دو بڑی فیکٹریوں کو نشانہ بنایا، جن میں ایک یورینیم اور دوسری ہیوی واٹر فیکٹری شامل ہے، جو ایران کے جوہری پروگرام کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے ان تنصیبات پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اصفہان میں ایک اسٹیل فیکٹری پر حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک جبکہ 15 زخمی ہوئے ہیں۔