کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پیٹرول پمپ پر کم ریٹ میں نہیں ملیں گے اس لیے ہر موٹر سائیکل والے کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیں گے، دو سے تین روز میں ایپلیکیشن کام کرے گی اور شناختی کارڈ پر موٹر سائیکل رجسٹر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ آج سے ہم موٹر سائیکل کی ٹرانسفر مفت کر رہے ہیں، جو بھی موٹر سائیکل والے ہیں اپنے نام ٹرانسفر کروائیں، ایک سو روپے ایک لیٹر پر ہم سبسڈی کی رقم دیں گے، آج سے 15 دن بعد ہم رقم ٹرانسفر کر دیں گے اور 2 ہزار روپے ہر موٹر سائیکل والے کو ٹرانسفر کریں گے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر جا کر اپنی موٹر سائیکل کو چیک کر سکتے ہیں، 15 دن کے بعد ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل والے کو 2 ہزار روپے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاشت کار کو سپورٹ کیا گیا ہے، ہم نے گندم کی قیمت بھی 3500 روپے فی من مقرر کر دی۔
انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت بڑھ گئی جس سے کاشت کار کو نقصان ہوگا، 20 لاکھ ایکڑ چھوٹے کاشت کار کے پاس ہے اس لیے 1500 روپے فی ایکڑ پر ہم ان کاشت کاروں کو فراہم کریں گے اور پیر سے 1500 روپے فی ایکڑ ٹرانسفر کرنا شروع کریں گے جبکہ بڑے زمینداروں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ عمل صوبے خود کریں گے، تیسری تجویز پر بہت بحث ہوئی اور ایک ماہ کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاق اس بات پر عمل کرے گا اور پیسے صوبے دیں گے، یہ ٹارگٹڈ سبسڈی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ایک لاکھ، 70 ہزار اور 80 ہزار مہینہ سبسڈی دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حتمی طور پر 4 کمپوننٹ طئے ہوئے، دو کمپوننٹس ایڈمنسٹریٹر صوبوں نے کرنے ہیں اور ایک کمپوننٹ وفاق نے کرنا ہے مگر رقم صوبے ادا کریں گے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا صوبوں کا خیال تھا کہ موٹر سائیکل چلانے والوں کو رعایت دی جائے اور 6.7 ملین موٹر سائیکلیں سندھ میں رجسٹرڈ ہیں، موٹر سائیکل اصل مالک کے نام پر نہیں ہے، ہم نے کہا کہ 100 روپے فی موٹر سائیکل والے کو دیے جائیں۔
انکا کہنا تھا کہ ایران پر حملے سے جنگ شروع ہوئی، اس کے حالات سے سب واقف ہیں، ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت ہوئی تھی، اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم نے جنگ کے خاتمے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا، خطے کی صورتحال سے ہم متاثر ہیں۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اہم فیصلے کیے، پہلی بار چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ صدر آصف زرداری کی صدارت میں میٹنگ میں شریک تھے۔ صدر مملکت کی میٹنگ کے بعد ہماری کئی میٹنگز ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم زیادہ تر فیول درآمد کرتے ہیں، انرجی بھی درآمد کرتے ہیں، دنیا میں قیمتیں بڑھ رہی تھیں لیکن تین ہفتے تک وزیر اعظم نے قیمتیں نہیں بڑھائیں، اس میں سبسڈی دی جا رہی تھی لیکن سبسڈی سے امیر کو بھی فائدہ ہوا۔ پاکستان میں پیٹرول کا استعمال 20 سے 25 فیصد بڑھ گیا اور آئی ایم ایف کا بھی کہنا تھا کہ امیروں کو کیوں سبسڈی دے رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے کہا کہ قیمتیں نہیں بڑھیں گی تو قرضے چڑھیں گے، پھر یہ فیصلہ ہوا کہ جو زیادہ متاثر ہو رہے ان کو سبسڈی دی جائے، کل چھ سات گھنٹے طویل میٹنگ ہوئی۔