درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مقتول کے بیٹے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کے علاقے میں کرفیو کے باعث انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا، جبکہ ایسے کیسز بھی موجود ہیں جہاں بیٹے کی جگہ بھائی نے حلف نامے جمع کروائے ہیں۔
اس پر ملزمان کے وکیل عامر منصوب قریشی نے مؤقف دیا کہ اپیل دائر کرنے کا حق متاثرہ شخص یا اس کے قانونی وارث کو حاصل ہے، اور اپیل میں دیگر افراد کو بھی فریق بنایا گیا مگر نوٹس صرف انہیں جاری ہوا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ سگے بھائی کو بھی کیس کی پیروی کا حق حاصل ہے یا پھر بیٹے کو بلا کر حلف نامہ دستخط کروایا جا سکتا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سہولت کے لیے طویل تاریخ دی جا سکتی ہے، جس کے بعد سماعت 25 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے اہم شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے راؤ انوار سمیت دیگر ملزمان کو بری کیا، لہٰذا اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔
یاد رہے کہ 2023 میں انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر راؤ انوار سمیت 18 ملزمان کو بری کر دیا تھا، جبکہ موجودہ اپیل مقتول کے بھائی عالم شیر کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔