عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں اپنے وفد کے دورۂ پاکستان کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔
انھوں نے بتایا کہ میں نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کو ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے روک دیا ہے۔
بعد ازاں فلوریڈا میں ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ میری پاکستان اور اس کی قیادت کے بارے میں مثبت رائے ہے تاہم اس نوعیت کے دوروں کا عملی جواز موجود نہیں تھا۔
صدر نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں پاکستان ایک زبردست ملک ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت شاندار ہیں اور وزیرِاعظم شہباز شریف بھی عظیم ہیں۔
امریکی صدر نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستانی قیادت بھی چاہتی ہے کہ ایران سے مذاکرات میں کچھ نہ کچھ پیش رفت ہو۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ لیکن ہم 15 یا 16 گھنٹے کا سفر ایسے لوگوں سے ملاقات کے لیے نہیں کریں جنھیں زیادہ لوگ جانتے بھی نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا سفر بہت طویل ہے جس میں کافی وقت لگتا ہے اور بہت مہنگا بھی ہے۔ ان سب کے باوجود امریکی وفد پہنچ بھی جائے تو وہ ایران کے اصل رہنما سے ملاقات نہیں کرپاتے بلکہ غیر معروف لوگوں سے ملاقات کر رہے تھے۔