اگر یقین نہ آئے تو دنیا میں جنگوں کی تاریخ اور اس کے حتمی نتائج پڑھ لیجیے،آپ کو احساس ہو جائے گا کہ حتمی طاقت کا مرکز عوام ہی ہوتے ہیں کہ عوام کی رائے اور عوام کے احساسات ہی اقتدار کے رسہ گیروں کی شکست و فتح کا تعین کرتے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مذاکرات کے دوران تھوپی جانے والی خلیج فارس کی جنگ کے متعلق میں مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا آیا ہوں کہ اس جنگ کا سب سے اہم محرک امریکا ،اسرائیل اور ایران کے عوام کا وہ دباؤ ہوگا جس سے مذکورہ ممالک کی قیادتوں کا جان چھڑانا مشکل امر ہو جائے گا۔
اس سے قبل کے کالم میں یہ نشاندہی کی گئی تھی کہ’’مذاکرات کی میز پر اگر عوام کی معاشی ،سماجی اور سیاسی آزادی کو فریق اول کے طور پر نہ رکھا گیا تو پھر خدشہ ہے کہ عوام کی مزاحمت کسی بھی فریق کی رجیم کے لیے درد سر بن جائے گی اور آخر میں عوامی دباؤ کے اس بحران سے نکلنا ہر فریق کے لیے مسلسل مشکلات پیدا کرے گا۔‘‘
اس دوران دو ہفتے کی جنگ بندی اور مذاکرات امریکا اور ایران کے لیے وہ راہ نہ نکال سکے جس کی امید سفارتی یا اقتداری خواہشات پر فریق اول اور دوم چاہ رہے تھے،صدر ٹرمپ نے امریکی عوام کی خواہش کے برعکس اسرائیل کی مدد یا منشا پرایران کے خلاف جنگ شروع تو کردی اور ٹویٹر پراپنی فتوحات کے بڑے بڑے دعوے اور رجیم چینج کے مطلوبہ ہدف کی لولی پوپ امریکی عوام کو دینے کی کوشش ضرور کی مگر جنگ کے خلاف امریکی عوام نے صدر ٹرمپ کی ہر فتح کو ایک گیدڑ بھبھکی کے علاوہ کچھ نہ سمجھااور جو صدر ٹرمپ امریکا کی عالمی حیثیت کو جنگ روکنے کے ہتھیار سے امریکی عوام کے سامنے بنانا چاہتے تھے،وہ اس میں مکمل طور پر ناکام ہوئے اور آخر کار اسلحے کی مارکیٹ کی توانائی اور ہتھیاروں کی آزمائش کے نکتہ نظر نے صدر ٹرمپ کو ایران کا بحری محاصرہ کرنے پر مجبور کیا۔
جب کہ یہ حربہ بھی دنیا کی اقتصادی صورتحال کو بگاڑنے کا وہ طریقہ سمجھا گیاجو الٹا صدر ٹرمپ کے لیے مزید مہلک قدم ثابت ہو،ا جس نے عالمی دنیا اور امریکی عوام کے سامنے صدر ٹرمپ کی حیثیت و اہمیت کو سوالیہ بنا دیاجب کہ مذاکرات کے دوسرے دور میںایران کی جانب سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبے نے مذاکرات کا دوسرا دور باوجود سفارتی کوشش کے نہ ہونے دیا۔
اس دوران صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو مسلسل دھمکی آمیز اور فتوحات سے لبریز ٹوئٹ بھی امریکی عوام میں صدر ٹرمپ کی ساکھ نہ بچاسکے ،جس کے دباؤ میں امریکی صدر نے مذاکرات نہ ہونے تک جنگ بندی میں اپنے طور پر توسیع کردی مگر ایران کے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھی۔(یاد رہے کہ جنگ بندی کی کوئی بھی درخواست یا خواہش ایران کی طرف سے نہیں کی گئی تھی۔
دوسری جانب تمام تر فکری و نظری اختلاف کے باوجود ایران کی حالیہ جنگ میں پوری دنیا کی طرف سے جہاں ایک اخلاقی حمایت کی توثیق ہوئی ہے تو وہیں کچھ حلقے اسے امریکا ایسے سپر پاور کہلائے جانے والے ملک کے سامنے اس جنگ کو ایران کی اخلاقی فتح قرار دے رہے ہیں جب کہ امریکا اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملوں نے عالمی طور پر امریکا کی دنیا میں ’’سپرمیسی’’کو بھی سوالیہ نشان بنادیا ہے۔
اس جنگ کے بادل گو ابھی چھٹے نہیں ہیں لیکن اس خیال کا خوف بھی جمہوری آزادی کے متوالوں کو امریکی میڈیا کے ذریعے دلایا جا رہا ہے کہ اگر ایران کو جنگ کے حتمی انجام تک پہنچائے بغیر چھوڑ دیا جائے گا تووہ نہ صرف یہ خلیج کے ممالک کے لیے ایک ایسی طاقت کے طور پر حکمرانی کرے گا جس کی کہ سپاہ کافی مضبوط ہو جائے گی اور دوم یہ کہ ایران کے حکمران مزید عوام کی انسانی و جمہوری آزادیوں کو قید کر دیں گے،جیسا کہ ماضی بعید اور قریب میں ہوا۔
ایران کے متعلق مذکورہ خدشات کے دو پہلو سر دست نظر آتے ہیں ،پہلا پہلو امریکی نکتہ نظر کی پسندیدہ محکوم جمہوریت اور ایران کو اپنا دست نگر بنا کر رکھنے کاہے،جب کہ دوسرا پہلو ان جمہوریت پسند افراد یا سیاسی لوگوں کا ہے جو امریکاو یورپ کی سرمایہ دار مفاد پرست ڈھونگ جمہوریت کے بھی مخالف ہیں اور یہ طبقہ سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ اور عوام کی دولت پر چند ممالک یا اداروں کے قبضے کو بھی عوام دشمنی سمجھتا ہے،جب کہ یہ جمہوریت پسند افراد یا دانش کا وہ طبقہ ہے جو دنیا میں تنگ نظر وہ حکومتیں بھی دیکھ چکے ہیں جنھوں نے اپنے مخالفین کے سر تن سے جدا کیے۔
اس موقع پر اس بات سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ امریکا بہادر نے ہی مذہبی انتہا پسندی کے لیے لاکھوں ارب ڈالر دنیا کے مختلف حصوں میں تقسیم کیے اور خلیج سے لے کر برصغیر اور افریقہ میں مذہبی انتہا پسندی کی پشت پناہی کی اور اپنی مرضی کی ریاستیں بنائیں جن کا کام عوام کے درمیان نفاق پیدا کرنے کے علاوہ کبھی کچھ نہ رہا ہے،امریکا آج بھی اپنی مرضی کے آمراور بادشاہتوں کو قائم کرنے والا وہ عوام دشمن کردار ہے جس سے دنیا کے ترقی پسند،جمہوریت پسند اور روشن خیال حلقے مکمل طور سے باخبر ہیں۔
دنیا کے ترقی پسند اور روشن خیال حلقوں کے ایران کی موجودہ رجیم کے متعلق جو خدشات ہیں وہ ایران کی مخالفت یا امریکا کی ہمدردی میں ہر گز نہیں ہیں ،بلکہ ان کے خیال میں امریکا کا دہرا عمل کسی رعایت کا مستحق نہیں مگر اس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں ہونا چاہیے کہ جوعمل ایران کی قیادت اپنے 47سالہ دور میں اپنے مخالفین کے خلاف کر چکی ہو اسے یکسر بھلا دیا جائے۔
ایسا کرنا دراصل تاریخ اور ان بے گناہوں کے خون کے ساتھ نا انصافی ہوگا جو جمہوری آزادی کے حصول میں بے جرم و خطا امریکی سامراجی مظالم کا شکار ہوئے یا ایرانی قیادت نے اپنے ہی عوام پر طاقت کا قہر ڈھایا۔
بادشاہتوں کو بچانے اور اسرائیل کی ایٹمی طاقت بننے پر اعتراض نہ کرنے والے امریکا یا صدر ٹرمپ کے دہرے عمل یا ایران پر جنگ مسلط کرنے کی جس طرح اجازت نہیں دی جا سکتی،اسی طرح ایران کی توانائی حاصل کرنے کی آزادی سلب کرنے کی بھی امریکا یا کسی ملک کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اس وقت خلیج فارس کی جنگ میں امریکا اور ایران کی قیادت عوام کے دباؤ کے ایسے مرحلے میں ہیں کہ جن سے نجات برابری کی بنیاد پر مذاکرات ہی دلوا سکتے ہیں،وگرنہ امریکا،اسرائیل اور ایران بہت زیادہ عرصے تک عوامی دباؤ کو نہ سہہ سکیں گے اور پھر نہ کسی کا تخت رہے گا اور نہ کسی بھی حکمران کی ہٹ دھرمی…عوام تو مسلسل ساحر لدھیانوی کے لہجے میں کہہ رہی ہے کہ!
جنگ سرمائے کے تسلط سے
امن جمہور کی خوشی کے لیے
جنگ جنگوں کے فلسفے کے خلاف
امن پر امن زندگی کے لیے