اب آپ ہی بتائیں کہ کیا جنگ کے بغیر صدر ٹرمپ جنگ بندی کرتے؟ جو وہ اب تک ایک سے زائد بار کرچکے ہیں اور لگتا ہے کہ آگے بھی کرتے رہے گے کہ جب تک معاہدہ نہیں ہوجاتا۔ ہم جنگ بندی کی شرائط کی اس وقت بات نہیں کرتے کیوںکہ موجودہ حالات میں وہ بہت دفعہ بدل چکی ہے لیکن ہر بار اس کا فائدہ ایران کو ہی ہوا ہے۔ یہ اس لیے ممکن ہوا کیوںکہ جنگ میں ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی اور صلاحیت کے ساتھ ساتھ اپنے صبر، حوصلے، استقامت اور شجاعت کا بھی مظاہرہ کیا کہ جس کی وجہ سے آج امریکا کو زیادہ تر ایران کی شرائط پر جنگ بندی کی ہزیمت برداشت کرنی پڑی ہے۔
ایران سے جنگ بندی کو امریکی صدر نے اپنی مکمل اور جامع فتح قرار دیا ہے بالکل ایسے ہی جیسے اس نے ویتنام اور افغانستان سے نکلتے ہوئے کہا تھا۔ یہ دنیا جانتی ہے کہ دونوں اس کے لیے ڈراؤنے خواب ثابت ہوئے اور امریکا کو اس سے سبق لینا چاہیے تھا کیوںکہ امریکا کے لیے افغانستان ہی ویتنام تھا اور ایران اس کے لیے ایک نیا افغانستان ثابت ہوا ہے۔ اب امریکا کے ساتھ جو کچھ ویتنام اور افغانستان میں ہوا تھا اس تناظر میں صدر ٹرمپ کے جامع اور مکمل فتح والے بیان سے ہم دردی تو کی جاسکتی ہے لیکن اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔
ہم تو آپ کو یہ بھی بتا سکتے کہ اس جامع اور مکمل فتح کا آغاز کہاں سے ہوا تھا؟ اس کا آغاز اس سے ہوا تھا جب امریکی صدر نے ایران جنگ شروع کرنے کا الزام اپنے ڈیفنس سیکرٹری پیٹ ہیگسیتھ کو دیا تھا، دل چسپی کی بات یہ ہے کہ یہ وہ وقت تھا جب امریکی صدر اپنی فتح کے دعوے کررہے تھے۔ اب کوئی بھلا ان کو بتائے کہ جیتنے والے الزام نہیں لگاتے بلکہ وہ ہارنے والے ہوتے ہیں کہ جو الزام لگاتے ہیں۔
آئیے ہم اور آپ مل کر دیکھتے ہیں کہ جنگ سے پہلے کیا حالات تھے؟ اور اس وقت زمینی صورت حال کیا ہیں؟ اس جنگ سے پہلے امریکا نہ صرف ہر وقت ایران کو دھمکیاں دیتا تھا بلکہ اس نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ بھی کیا تھا۔ اب امریکا کو ایران کا ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اس کے جوہری حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ مانا کے ایران کی پہلے سے افزودہ کی ہوئی یورینیم ایران کے پاس نہیں رہے گی اور وہ کس ملک کے پاس رکھوائی جائے گی؟ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز کھلا تھا اور اس پر کوئی محصول بھی نہیں تھا۔ آج ایران عمان کے ساتھ مل کر محصول کا دعویٰ کررہا ہے۔
ہرچند کے اس وقت امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے لیکن یہ بات سب کو پتا ہے کہ یہ اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے اور اس ناکابندی سے خود امریکا اور اس کے حواریوں کو زیادہ نقصان ہورہا ہے اور آج نہیں تو کل اس کو حل کرنا ہوگا کہ جس میں ایران کے حق محصول کو کلیدی حیثیت حاصل ہوگی۔ امید کی جارہی ہے کہ مستقبل میں ایران کے تیل کی فروخت پر بھی پابندی میں بھی نرمی ہوسکتی ہے۔ اب امریکا اور اسرائیل کو ایران سے بات کرتے ہوئے نہ صرف اپنا لب و لہجہ تبدیل کرنا پڑے گا اور وہ یوں منہ اٹھا کر ایران پر حملہ بھی نہیں کر سکے گے کیوںکہ اب انھیں پتا چل گیا ہے کہ اس میں ان کا منہ بھی ٹوٹ سکتا ہے۔
ایرانی اثاثے کہ جس کو امریکا منجمد کر کے بیٹھا ہوا تھا اب اس پر بھی بات چیت شروع ہوگئی ہے اور حتمی معاہدے کے بعد امید بن رہی ہے کہ ایران کو اپنے یہ اثاثے بھی واپس مل سکتے ہیں۔ اس سب کے بعد بھی اگر امریکہ اس کو اپنی مکمل اور جامع فتح قرار دے رہا ہے تو اس پر صرف یہ محاورہ ہی بولا جاسکتا ہے کہ ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔‘‘ اب آپ ہی بتائیں کہ کیا امریکا نے یہ سب سوچا تھا کہ اس کو جنگ بندی کی صورت میں یہ صورت حال پیش آئے گی اور اس کو شرائط کے طور پر یہ سب کچھ ماننا ہوگا؟ بالکل بھی نہیں بلکہ یہ سب ممکن ہی اس جنگ کی وجہ سے ہوا ہے۔ آپ یوں سمجھ لیجئے کہ امریکا ہر قیمت پر جنگ بندی چاہتا تھا اور اس کی یہ شکست اس کے لب و لہجہ سے عیاں ہے۔ صدر ٹرمپ جتنا سخت لب و لہجہ اپناتے ہیں اس کا بالکل الٹ اثر ہوتا ہے کیوںکہ دنیا کو ان کی کمزوری کا یقین ہوگیا ہے۔ اب تو امریکی ذرائع ابلاغ میں (TACO) کا استعمال روزمرہ ہونے لگا ہے۔
صدر ٹرمپ جتنی بڑی دھمکی دیتے ہیں معاہدے کی بات چیت کی زبان کے مطابق ان کو جنگ بندی کی ضرورت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ دنیا مانتی ہے کہ جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہی اصل حل ہے لیکن بعض اوقات ایک ضدی غنیم کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے جنگ ناگزیر ہوتی ہے۔ اسی لیے ہمارے مطابق مذاکرات کی صحیح ترتیب یہ ہے مذاکرات، جنگ اور پھر مذاکرات ہے۔
اب جب کہ مذاکرات کا ایک دور ہوچکا ہے جو کہ غیرحتمی رہا اور دونوں فریق معاہدے کے قریب آتے آتے دور ہوگئے۔ دوسرے دور پر اس وقت غیریقینی کیفیت چھائی ہوئی ہے لیکن امید ہے کہ جلد دور ہوجائے گی اور ہوسکتا یے کہ یہ تحریر چھپنے تک دوسرا دور ہورہا ہو یا کوئی اور فیصلہ ہوچکا ہو، کیوںکہ دونوں فریق جنگ نہیں چاہتے۔ امریکا تو بالکل بھی جنگ نہیں چاہتا بلکہ شاید اب اس میں پہلے والا دم خم بھی نہیں رہا کیوںکہ اس کو پتا ہے کہ پوری دنیا میں سوائے اسرائیل کے کوئی اس جنگ میں اس کے ساتھ نہیں ہے۔
اگلے دنوں یا ہفتوں میں کیا معاہدہ ہوتا ہے؟ اور یہ کتنا دیرپا ہوتا ہے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن کچھ باتیں آج بھی بتائی جاسکتی ہے، جیسے امریکا کا اکلوتی سپرپاور ہونے کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے۔ آنے والی سپرپاور اپنے مقامی وقت کے مطابق اپنے سپرپاور ہونے کا اعلان کرسکتی ہے۔ مشرق وسطی اب پہلے والا مشرق وسطی نہیں رہے گا، زیادہ امکان تو یہ ہے کہ شاید کچھ ممالک بھی اپنی قومی وحدت اور شناخت قائم نہیں رکھ سکیں گے اور ان کی بقا کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ دوسروں میں ضم ہوجائیں۔
پاکستان کے لیے آگے کھلا میدان ہے لیکن اس میں گھاٹیاں بھی ہیں۔ اب پاکستان ان سے کیسے گزرتا ہے یہ اس کی قیادت کی استعداد اور صلاحیت پر منحصر ہے۔ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے اب تک اپنے کارڈز بہت سمجھ داری سے استعمال کیے ہیں اور ہمارے دشمن بھی اس کے معترف ہورہے ہیں لیکن آگے کا راستہ اتنا ہی کٹھن ہے۔ پاکستان اب تک اپنا ثالثی والا کردار انتہائی خوش اسلوبی سے نبھا رہا ہے اور دونوں فریقین کے ساتھ ساتھ دنیا بھی اس کی معترف ہورہی ہے۔ اس وقت اتنا ہی لکھا جاسکتا ہے کہ چین نے اپنا بہت سارا کریڈٹ ہماری جھولی میں ڈال دیا ہے لیکن اس سے ہماری ذمے داریوں میں اضافہ ہی ہوا ہے اور لوگوں میں ایک Euphoria کی کیفیت نظر آرہی ہے جو کہ حقیقت نہیں ہے اور ہمیں صبر اور سمجھ داری کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
پیٹ ہیگسیتھ اور اس جیسے دوسرے لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا؟ اس پر ایک لطیفہ نما واقعہ اور اختتام۔ ایک ادارے میں چیف ایگزیکٹو کو تبدیل کردیا گیا۔ پرانا چیف اپنی چیزیں سمیٹ رہا تھا اور نیا آنے والا چیف اس کو تمسخر والی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ پرانے چیف نے جب اپنی چیزیں سمیٹ لیں تو اس نے نئے چیف کو تین لفافے دیے ان پر ایک، دو اور تین درج تھا۔ اس نے نئے چیف سے کہا کہ جب مشکل آئے اور کوئی حل سمجھ میں نہ آئے تو پہلا لفافہ کھولنا تمھیں اس کا حل مل جائے گا اسی طرح دوسری اور تیسری مشکل تک کے لفافے اس نے دیے۔
نئے چیف نے سوچا کہ اگر لفافے اتنے اچھے ہوتے تو پھر اس کو کیوں جانا پڑا اور اس نے بے پرواہی سے تینوں لفافے اپنی دراز میں پھینک دیے۔ کچھ عرصے تک تو ٹھیک چلتا رہا لیکن تین سال بعد ایسی مشکل آئی کہ اس کا حل کسی کی سمجھ نہیں آرہا تھا اور لگتا تھا کہ شاید چیف کی نوکری ختم ہوجائے۔ اس کو یکایک وہ تین لفافے یاد آئے بڑی مشکل سے ان کو ڈھونڈا اور پہلا لفافہ کھولا۔ اس میں لکھا تھا کہ اگر کچھ سمجھ نہ آئے تو سارا الزام اپنے سے پرانے افسر پر ڈالو کہ سارا مسئلہ اسی کی وجہ سے ہے۔
اس چیف نے ایسا ہی کیا اور بات سنبھل گئی اور حالات ٹھیک ہوگئے۔ اس کے بعد پھر ڈھائی تین سال بعد حالات خراب ہوئے اور کوئی حل سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اس دفعہ اس کو لفافے پہلے سے یاد تھے اور اس نے دوسرا لفافہ کھولا۔ اس میں لکھا تھا کہ پورے ادارے میں بی پی آر ( Business process re-engineering) کروں۔ اس نے ایسا ہی کیا اور ایک دفعہ پھر حالات سنبھل گئے۔ تین چار سال بعد پھر حالات خراب ہوئے اس دفعہ چیف پہلے سے تیار تھا اس نے فوراً تیسرا لفافہ کھولا اور اس دفعہ اس میں لکھا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تم یہ تین لفافے تیار کروں۔ آپ چاہے تو اس قصے کو پیٹ ہیگسیتھ پر روک دے اور چاہے تو اسے اس سے بھی اوپر لے جا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو سال کے آخر تک انتظار کرنا ہوگا اور بقول مرزا غالب کے:
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک