کراچی؛ کلفٹن میں ایف بی آر افسر کے زخمی ہونے کا معاملہ، ملزم کے والد کا بیان سامنے آگیا

0 minutes, 0 seconds Read
کلفٹن کے علاقے میں سابق ایس پی کے بیٹے کی مبینہ فائرنگ سے ایف بی آر انسپکٹر کے زخمی ہونے کے واقعے میں مفرور ملزم آغا شہیر کے والد اور سابق پولیس افسر آغا اصغر پٹھان کا  ویڈیو بیان سامنے آگیا ہے۔

آغا اصغر پٹھان کے مطابق چند روز قبل ان کے بیٹے کا چار افراد کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا۔ ویڈیو بیان میں ان کہنا تھا کہ گاڑی میں سوار افراد نے آغا شہیر کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اسے گاڑی سے اتار کر مارا پیٹا گیا۔

 انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے ان کے بیٹے کے سینے پر شراب کی بوتل بھی توڑی، جس سے وہ زخمی ہوگیا اور بعد ازاں زخمی حالت میں گھر پہنچا۔آغا اصغر پٹھان کے مطابق واقعے کے کچھ دیر بعد گھر کی گھنٹی بجی، اور جب ان کا بیٹا دروازہ کھولنے گیا تو وہ واپس نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ باہر نکلے تو گھر سے گاڑی بھی غائب تھی۔

 انہوں نے مزید بتایا کہ چند روز بعد اطلاع ملی کہ ان کی گاڑی گاؤں سے برآمد ہوئی ہے، تاہم ان کے بیٹے کے بارے میں تاحال کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔ آغا اصغر پٹھان نے آئی جی سندھ اور چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو بازیاب کرایا جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

 دوسری جانب واقعے کی تفتیش کے دوران ملزم آغا شہیر کے کے فرار میں سہولت کاری کے الزام میں 3 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔۔زیر حراست افراد کو کراچی اور شکار پور میں چھاپوں کے دوران حراست میں لے لیا۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزم مظہر علی کو کراچی جبکہ آغا طاہر اور مصدق کو شکار پور سے حراست میں لیا گیا ہے۔۔ واضح رہے فائرنگ کا واقعہ کلفٹن بلاک 9 میں 22 اپریل کو پیش آیا تھا جس کا مقدمہ اقدام قتل اور انسداد دہشتگری کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد سے مرکزی ملزم تاحال فرار ہے۔

Similar Posts