حکومت کی قرض کیلئے آئی ایم ایف کو 5 سے 7 ادارے بیچنے کی یقین دہانی، اخبار کا دعویٰ

0 minutes, 0 seconds Read

حکومت پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو جولائی تک فروخت کر دیا جائے گا۔ تاہم، نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل کے مستقبل پر امریکی حکومت کی جانب سے 228 ملین ڈالر کے لیز معاہدے کو قبل از وقت ختم کئے جانے کے باعث کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

مقامی انگریزی اخبار نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو دی گئی بریفنگ میں کہا کہ وہ پی آئی اے سمیت پانچ سے سات اداروں کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے، جن میں تین مالیاتی ادارے اور تین بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں شامل ہیں۔ زرعی ترقیاتی بینک (ZTBL) کی نجکاری بھی اس منصوبے کا حصہ ہے، جسے نومبر 2025 تک فروخت کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

حکومت کو آئی ایم ایف قسط کے حصول کیلئے نئے ٹیکس اہداف اور شرائط کا سامنا

روزویلٹ ہوٹل کا معاملہ

پی آئی اے کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل نیویارک کے مہنگے ترین علاقوں میں واقع ہے اور اس کے 1025 کمرے ہیں۔ جولائی 2023 میں پاکستانی حکومت نے اس ہوٹل کو نیویارک سٹی حکومت کے امیگرنٹ ہاؤسنگ بزنس کو تین سال کے لیے لیز پر دیا تھا۔ تاہم، امریکی حکام نے جولائی 2024 میں ایک سال قبل ہی لیز معاہدے کو ختم کرنے کا نوٹس دے دیا، جس کے باعث پاکستان کو تقریباً 80 ملین ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کو آگاہ کیا گیا کہ کابینہ کی نجکاری کمیٹی (CCOP) جلد فیصلہ کرے گی کہ آیا روزویلٹ ہوٹل کو فروخت کر دیا جائے یا اسے مشترکہ لیز معاہدے کے تحت چلایا جائے۔ کمیٹی کی ایک رپورٹ میں سعودی عرب کی جانب سے اس پراپرٹی میں باضابطہ دلچسپی ظاہر نہ کرنے کے باعث ہوٹل کو کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم، اس تجویز پر اب تک کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا۔

پی آئی اے کی نجکاری

نجکاری کمیشن نے آئی ایم ایف کو بریفنگ دی کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے جولائی 2025 کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل، پی آئی اے کو فروخت کرنے کی ایک کوشش ناکام ہو چکی ہے، اس وقت کمزور جانچ پڑتال کے باعث ایک رئیل اسٹیٹ ڈویلپر واحد بولی دہندہ کے طور پر سامنے آیا تھا، جس نے 10 ارب روپے کی پیشکش دی تھی جبکہ کم از کم قیمت 85 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق، حکومت اس ماہ کے آخر تک سرمایہ کاروں کو مدعو کرنے کے لیے ”ایکسپریشن آف انٹرسٹ“ جاری کرنے سے پہلے مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کای گیا ہے کہ حکومت کو اس بار بھی کامیابی کا یقین نہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ نجکاری کی دوسری کوشش سے پہلے دوبارہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی معلوم کی جا رہی ہے۔

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 12 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کو بتایا گیا ہے کہ تین ممکنہ سرمایہ کار بولی میں حصہ لے سکتے ہیں، جن میں وہ دو سرمایہ کار بھی شامل ہیں جو پہلے اس شرط پر دستبردار ہو گئے تھے کہ حکومت 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرے اور پی آئی اے کے 45 ارب روپے کے قرضے نجکاری سے پہلے ختم کر دے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے ان دونوں شرائط میں نرمی کی اجازت دے دی ہے، جبکہ یورپی روٹس کی بحالی کو بھی نجکاری کے کامیاب ہونے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی فروخت

رپورٹ کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ دسمبر 2024 تک فیصل آباد، اسلام آباد اور گوجرانوالہ کی تین بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو فروخت کرنے کا ارادہ ہے۔ تاہم، فیصلہ ابھی باقی ہے کہ آیا تینوں کمپنیاں ایک ساتھ فروخت کی جائیں گی یا الگ الگ نجکاری کی جائے گی۔

آئی ایم ایف نے دریافت کیا کہ آیا ان کمپنیوں پر کوئی تجارتی قرض واجب الادا ہے۔

علاوہ ازیں، حکومت نے اس سال کسی بھی پاور جنریشن کمپنی کو فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں دیا۔

مالیاتی اداروں کی نجکاری

ذرائع کے مطابق، حکومت نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کو مکمل کمرشل بینک کے طور پر خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور یہ معاہدہ مئی کے آخر تک متوقع ہے۔ تاہم، یو اے ای حکومت بینک کو کھلی نیلامی کے بجائے حکومت سے براہ راست معاہدے کے ذریعے حاصل کرنا چاہتی ہے۔

حکومت کا ڈیجیٹل پرائز بانڈ متعارف کرانے کا فیصلہ، شرائط اور حصول کا طریقہ کیا ہوگا؟

اسی طرح، زرعی ترقیاتی بینک کی فروخت کے لیے بھی مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کا عمل جاری ہے اور حکومت کو امید ہے کہ یہ معاہدہ نومبر 2024 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

مزید برآں، حکومت ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی کو بھی فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کی ڈیڈلائن پہلے کئی بار گزر چکی ہے، تاہم اب اس کی فروخت اگلے ماہ متوقع ہے۔

Similar Posts