بھارتی کرکٹر محمد شامی کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
بھارتی کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار فاسٹ بولر محمد شامی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ 36 سالہ فاسٹ بولر نے جمعے کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنے ٹیسٹ کیریئر کے اختتام کا اعلان کیا۔
محمد شامی نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس سفر کے دوران حاصل ہونے والی ہر وکٹ، مشکلات، انجریز اور میدان میں واپسی کے تجربات نے انہیں بہت کچھ سکھایا۔ ان کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ ان کے لیے محض کھیل کا ایک فارمیٹ نہیں بلکہ زندگی کا انتہائی خاص حصہ رہی ہے۔ وہ بھاری دل اور بے شمار خوبصورت یادوں کے ساتھ اس فارمیٹ کو الوداع کہہ رہے ہیں۔
شامی نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں، کوچز، اہل خانہ اور ان لاکھوں بھارتی شائقین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اچھے اور مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔
محمد شامی نے 2013 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔ اپنے پہلے ہی میچ میں انہوں نے مجموعی طور پر 9 وکٹیں حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں بھارت کی نمائندگی کرتے ہوئے 64 میچز کھیلے اور 229 وکٹیں حاصل کیں۔ اس دوران انہوں نے 6 مرتبہ ایک اننگز میں 5 یا اس سے زیادہ وکٹیں لینے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
آسٹریلیا کے خلاف پرتھ میں 2018 میں 56 رنز کے عوض 6 وکٹیں ان کی ٹیسٹ کرکٹ کی بہترین بولنگ رہی۔
شامی صرف بولنگ ہی نہیں بلکہ ضرورت کے وقت بیٹنگ میں بھی ٹیم کے لیے کارآمد ثابت ہوئے۔ 2021 میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں ان کی ناقابلِ شکست 56 رنز کی اننگز نے بھارت کی یادگار فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 200 سے زیادہ وکٹیں لینے والے بھارت کے پانچویں فاسٹ بولر بھی بنے۔
محمد شامی نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ 2023 میں آسٹریلیا کے خلاف ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں لندن کے اوول گراؤنڈ میں کھیلا تھا۔ اس کے بعد وہ بھارتی ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی نہ کر سکے، تاہم انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ جاری رکھی اور اپنی ریاست بنگال کی جانب سے رنجی ٹرافی سمیت دیگر مقابلوں میں حصہ لیتے رہے۔
بھارت کی جانب سے ان کی آخری انٹرنیشنل شرکت 2025 کی چیمپئنز ٹرافی میں ہوئی تھی، جس میں بھارتی ٹیم نے روہت شرما کی قیادت میں کامیابی حاصل کی تھی۔
اگرچہ شامی مسلسل ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے تھے، تاہم بھارتی سلیکٹرز نے انہیں قومی ٹیسٹ ٹیم میں شامل نہیں کیا۔ ان کی فٹنس کے حوالے سے بھی ماضی میں سوالات اٹھائے گئے تھے، جس پر شامی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر وہ فٹ نہ ہوتے تو بنگال کی جانب سے رنجی ٹرافی میں نہ کھیل رہے ہوتے۔
دوسری جانب بھارتی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ روی شاستری نے محمد شامی کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شامی میں ابھی مزید 30 سے 40 ٹیسٹ وکٹیں لینے کی صلاحیت موجود تھی اور انہیں گزشتہ 12 ماہ کے دوران ٹیسٹ ٹیم میں ایک اور موقع ملنا چاہیے تھا۔
روی شاستری نے شامی کی فٹنس پر اٹھائے جانے والے سوالات پر بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاسٹ بولر بنگال کی جانب سے مسلسل میچز کھیل رہے تھے اور ایک میچ میں 15 سے 20 اوورز تک بولنگ کر رہے تھے، جو ان کی فٹنس کا واضح ثبوت ہے۔
ان کے مطابق شامی جیسے تجربہ کار بولر کو ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اور موقع ضرور ملنا چاہیے تھا۔
ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے باوجود محمد شامی نے ون ڈے اور ٹی 20 کرکٹ جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
وہ اس سے قبل 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں بھارتی ٹیم کی نمائندگی کی خواہش بھی ظاہر کر چکے ہیں، تاہم قومی ٹیم میں ان کی واپسی کا انحصار مستقبل کی کارکردگی اور سلیکٹرز کے فیصلے پر ہوگا۔