پیوٹن نے ٹرمپ کے ساتھ ’ٹرمپ کارڈ‘ کھیل دیا، جنگ بندی کیلئے امریکی سفارتکاری بری طرح ناکام

0 minutes, 0 seconds Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی روس کے ساتھ پہلی بڑی جنگی سفارت کاری میں ناکامی واضح ہو گئی، جہاں وہ ایک غیر مشروط 30 روزہ جنگ بندی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ روس نے اس مطالبے کے جواب میں صرف قیدیوں کے تبادلے، مزید مذاکرات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کی مشروط پیشکش کی اور مطالبہ کیا کہ امریکا اور اس کے اتحادی یوکرین سے انٹیلیجنس تعاون بند کریں، جنگ بندی کیلئے پیوٹن نے مزید سخت شرائط رکھیں۔

روس نے عندیہ دیا کہ وہ یوکرین کے بجلی اور گیس کے نظام پر حملے بند کرے گا، لیکن امریکا کی جانب سے اس جنگ بندی کو ’’انفراسٹرکچر‘‘ تک وسعت دینا ایک بڑی تکنیکی غلطی ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ اس میں سڑکیں، پل اور ریلوے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کا سب سے زیادہ نقصان خود یوکرین کو ہوگا، کیونکہ وہ روس کی آئل ریفائنریوں اور پائپ لائنز کو نشانہ بنا کر کریملن کی معیشت کو نقصان پہنچا رہا تھا۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ بندی کے معاہدے پر مزید وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ روس نے کسی بڑی رعایت کے بجائے امریکا سے تمام غیر ملکی امداد اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو روکنے کا مطالبہ کیا اور ”ورکنگ گروپس“ کی تجویز دی، جو اکثر سفارتی چالاکی کے تحت تاخیری حربہ ثابت ہوتی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ کا استعمال تجویز کیا، لیکن یہ واضح نہیں کہ ماسکو امریکی نگرانی کو قبول کرے گا یا نہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ روس نے براہ راست ”نہیں“ کہنے کے بجائے ایک ایسی جزوی جنگ بندی کی پیشکش کی، جس سے اس کے مالی مفادات کو کم سے کم نقصان ہو۔ اس سفارتی چالاکی کے باعث کسی مستقبل کے امن معاہدے کی بنیاد مزید کمزور ہو گئی ہے، اور کریملن نے اپنی روایتی سفارتی چالوں سے ٹرمپ انتظامیہ کو شکست دے دی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ کیا وہ مزید دباؤ ڈالیں گے، رعایتیں دیں گے یا اس معاملے سے پیچھے ہٹ جائیں گے؟ یوکرین کے لاکھوں عوام کے لیے یہ سوال ان کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ دوسری طرف، روس کسی مفاہمت سے زیادہ اپنی فتح پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جو کسی بھی امن معاہدے کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

Similar Posts