شوگر ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟ رمضان اسپیشل نشریات میں اہم گفتگو

0 minutes, 0 seconds Read

رمضان اسپیشل ٹرانسمیشن میں ڈاکٹرآمنہ سہیل نے ذیابیطس یا شوگر کی بیماری پر گفتگو کرتے ہوئے اس مسئلے پر روشنی ڈالی کہ یہ بیماری لاکھوں لوگوں کو متاثر کر رہی ہے، سوال یہ ہے کہ آخر شوگر کیوں ہوتی ہے؟ اس کی کیا وجوہات ہیں اور ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

ذیابیطس کی دو بڑی وجوہات ہیں پہلی یہ کہ موروثی (Genetic) عوامل، یعنی اگر آپ کے خاندان میں والدین، دادا، دادی یا کسی اور قریبی رشتہ دار کو شوگر ہے تو آپ میں بھی اس بیماری کے ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ جینیاتی طور پر منتقل ہونے والی یہ بیماری اکثر احتیاط نہ کرنے کی صورت میں ہونے کے زیادہ امکان ہیں۔

دوسری وجہہ طرزِ زندگی یا آپ کا لائف اسٹائل ہے۔ جدید طرزِ زندگی، جس میں جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور غیر صحت مند خوراک شامل ہے، ذیابیطس کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کچھ عوامل درج ذیل ہیں،

آج کل زیادہ تر لوگ دفتری کام یا دیگر مصروفیات کی وجہ سے دن بھر بیٹھے رہتے ہیں۔ مسلسل 8 سے 10 گھنٹے تک بیٹھے رہنا جسم میں چربی کے ذخیرے کو بڑھاتا ہے اور میٹابولزم کو سست کر دیتا ہے، جو شوگر کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔

شوگر کے مریضوں کو کن خشک میوہ جات سے پرہیز کرنا چاہیے؟

اسکے علاوہ ہماری غذا میں فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیاء اور پروسیسڈ فوڈ کی زیادتی ہو چکی ہے، جب کہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کم ہو گیا ہے۔ اس غیر متوازن خوراک کی وجہ سے بلڈ شوگر لیول متاثر ہوتا ہے اور انسولین کی کارکردگی خراب ہو جاتی ہے۔

نیند کی کمی نہ صرف شوگر بلکہ بہت سی بیماریوں کو دعوت دینے کی بڑی وجہہ ہے۔ دیر سے سونا اور نیند پوری نہ کرنا جسم میں ہارمونز کے عدم توازن کا سبب بنتے ہیں، جس سے انسولین کے خلاف مزاحمت بڑھ جاتی ہے۔

اسکے ساتھ ہی جسمانی سرگرمیوں کی کمی ہمیں اس بیماری کی طرف دھکیل دیتی ہیں، ماضی میں لوگ ہاتھ سے کام کرتے تھے، گھر کی صفائی، کھانا پکانے اور دیگر روزمرہ کے کاموں میں مشقت ہوتی تھی، جو جسم کو متحرک رکھتی تھی۔ آج کے جدید دور میں ہم ہر چیز کے لیے مشینوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ہم پیدل چلنے کی بجائے کار یا بائیک کا استعمال کرتے ہیں، سیڑھیاں چڑھنے کی بجائے لفٹ کو ترجیح دیتے ہیں، اور ورزش کے لیے وقت نہیں نکالتے۔ نتیجتاً، جسم میں اضافی کیلوریز جلتی نہیں ہیں اور خون کی گردش متاثر ہوتی ہے، جو شوگر کا باعث بنتی ہے۔

ذیابیطس کے علاج کیلئے یہ 5 سبزیاں قدرت کا انمول تحفہ ہیں

لہٰذا شوگر سے بچاؤ کے لیے ہیمیں اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلیان لانی ہوں گی۔ ہم کچھ کا ذکر یہاں کریں گے۔
مثلا روزانہ کم از کم 30 منٹ کی ورزش یا چہل قدمی کریں، خوراک میں تلی ہوئی اور پروسیسڈ اشیاء کے بجائے سبزیاں، دالیں، اور قدرتی غذائیں شامل کریں، وقت پر سوئیں اور 7 سے 8 گھنٹے کی نیند ضرور لیں، زیادہ دیر تک بیٹھنے سے گریز کریں اور ہر گھنٹے بعد تھوڑا چہل قدمی کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں تاکہ جسم سے فاضل مادے خارج ہوتے رہیں۔

لہٰذا ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی میں توازن پیدا کریں، صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں اور روزمرہ کے معمولات میں جسمانی سرگرمیوں کو شامل کریں۔ اگر ہم اپنی خوراک اور طرزِ زندگی پر توجہ دیں تو ہم اس بیماری سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

Similar Posts