‘والد نے اسکیم کیا، گھر، گاڑی زیورات سب بیچ دیا’: میر رضا کی مبینہ چیٹ منظرِ عام پر
کراچی میں قتل ہونے والے میر رضا کے کیس میں ایک نیا موڑ آیا ہے، مقتول کی ایک برس پرانی مبینہ واٹس ایپ چیٹ سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے اپنے دوست کو بتایا تھا کہ ان کے والد نے ایسا اسکیم کیا کہ ایک ہی دن میں گھر، گاڑی اور زیورات تک فروخت کرنا پڑ گئے اور ڈیڑھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا، جس پر دوست نے انہیں تسلی دی تھی۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ چیٹ ایک سال پرانی ہے جبکہ مقتول کے دوست کا وائس نوٹ بھی سامنے آیا ہے۔
ان انکشافات پر ردِعمل دیتے ہوئے مقتول کے والد میر حسین نے کہا کہ یہ نقصان کروڑ یا ڈیڑھ کروڑ کا نہیں بلکہ اسی سے پچاسی لاکھ روپے کا تھا اور ممکن ہے کہ رضا نے غصے میں زیادہ رقم بتا دی ہو۔
میر حسین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ سرمایہ کاروں کی تمام تفصیلات تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کر چکے ہیں۔
دوسری جانب مقتول کے والد میر حسین نے پولیس کی جانب سے جاری تحقیقات پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے چوبیس دن گزر جانے کے باوجود پولیس کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی اور کیس کو مختلف رخ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ فی الوقت صرف جوڈیشل کمیشن سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں کیونکہ کمیشن کے سامنے پیش آنے والے حقائق سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ ثبوتوں کو ضائع کیا گیا، کرائم سین یونٹ اور پولیس افسران نے غفلت برتی اور فارنزک کی کارروائی میں بھی تاخیر کی گئی۔
کیس میں جاری مختلف قیاس آرائیوں، خودکشی کے خدشات اور مالی معاملات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے میر حسین نے کہا کہ یہ تمام باتیں اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خودکشی کے تاثر اور اٹھنے والے سوالات پر جوڈیشل کمیشن اور جج صاحب پہلے ہی نوٹس لے کر رپورٹس طلب کر چکے ہیں۔
انہوں نے جے آئی ٹی کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں موجودہ پولیس انویسٹی گیشن پر بالکل بھروسہ نہیں ہے اور جے آئی ٹی کے بغیر شفاف تحقیقات ممکن نہیں، اسی لیے ہم اپیل میں جا رہے ہیں اور جے آئی ٹی کو ہر صورت شامل کروائیں گے۔
کیس کی جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے دوران مدد کرنے والے ایک شخص سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک پریشان حال شخص ہے اور اگر حکام اس کی جانچ پڑتال سے مطمئن ہو چکے ہیں تو اسے بھی انصاف فراہم کیا جائے۔