اپنی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر قائم ہوں، میر رضا کو گولی آگے سے لگی: ڈاکٹر اُسامہ

میر رضا کیس میں ڈاکٹر اسامہ نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے اپنی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مؤقف پر قائم رہنے کا کہا ہے۔

ڈاکٹر اسامہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میر رضا کو گولی سامنے سے لگی تھی اور وہ اپنی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر قائم ہیں۔

ڈاکٹر اسامہ نے مزید بتایا کہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ ان سے رابطے میں تھیں اور انہوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ واٹس ایپ کے ذریعے ڈاکٹر سمیعہ کو بھیجی تھی۔

ڈاکٹر اسامہ کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ میر رضا کیس اتنا ہائی لائٹ ہوجائے گا، جبکہ پوسٹ مارٹم ریفرنس لکھنے کے لیے انہوں نے تصاویر رکھی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جارہی ہوں گی۔ ڈاکٹر اسامہ کے مطابق انہوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ بغیر کسی دباؤ کے تیار کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یکم اگست کو پوسٹ مارٹم رپورٹ جمع کروائی تھی۔

میر رضا کیس میں پہلی اور دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے اختلافات پر جوڈیشل کمیشن پہلے بھی ڈاکٹر اسامہ سے سوالات کر چکا ہے۔

اُدھر میر رضا قتل کیس سے متعلق آج جوڈیشل کمیشن کی تیسری سماعت کا سلسلہ جاری ہے جہاں مزید اہم گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے ایس ایس پی سمیع اللہ کو اہم گواہ قرار دیتے ہوئے ان کا بیان مکمل ہونے تک اہلخانہ کو سوالات جمع کرانے کی مہلت دینے کی درخواست کی ہے۔

کمیشن نے میر رضا کے اہلخانہ کو آج سوالات ارسال کرنے کی ہدایت کی تھی۔ جبران ناصر نے مؤقف اپنایا کہ ایس ایس پی سمیع اللہ اہم گواہ ہیں، اس لیے ان کا بیان مکمل ہونے کے بعد اہلخانہ کو سوالات جمع کرانے کا موقع دیا جائے۔

میر رضا کے اکاؤنٹنٹ محمد عمیر نے کمیشن کو بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ ایک برانچ میر رضا جبکہ دوسری احمد بھردے دیکھتے تھے اور وہ دونوں کو مالیاتی خدمات فراہم کررہے تھے۔ ان کے مطابق 2 جولائی کے بعد مالی معاملات سمجھنے کے لیے گروپس بنائے گئے جبکہ 15 جولائی کو ایس آر بی کا چالان تیار کرکے دیا گیا۔

محمد عمیر نے بتایا کہ انہوں نے کبھی آڈٹ نہیں کیا اور انہیں بینک سے رقم نکالے جانے کے اوقات کا بھی علم نہیں۔ پولیس نے ان کا بیان 22 اگست کو ریکارڈ کیا تھا۔ انہوں نے میر رضا کو مہذب اور مالی معاملات میں سوالات کرنے والا شخص قرار دیا۔

سرمایہ کار احمد حسن شیخ نے کمیشن کو بتایا کہ عثمان بزائی کے ذریعے میر رضا سے ملاقات ہوئی تھی۔ کاروبار کے لیے 30 لاکھ روپے کی ضرورت بتائی گئی تھی، جس پر 5 جولائی کو رقم اکاؤنٹ میں منتقل کردی گئی تھی۔ اس کے بدلے میں 5،5 لاکھ روپے کے دو چیک دیے گئے تھے۔

احمد حسن شیخ کے مطابق انہوں نے 3 لاکھ 82 ہزار روپے عثمان بزائی کو بھی بھیجے تھے اور سرمایہ کاری روزمرہ کیش فلو برقرار رکھنے کے لیے کی گئی تھی۔ پولیس نے ان کا بیان 3 اگست کو ریکارڈ کیا تھا۔

ڈی جی ہیلتھ پرویز احمد شیخ نے قبرکشائی کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی سے متعلق بھی بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیکل بورڈ میں تبدیلی اسپیشل سیکریٹری صحت شہریار کی ہدایت پر کی گئی جبکہ بورڈ کے اراکین کے نام سیکریٹری صحت نے دیے تھے۔

ڈی جی ہیلتھ کے مطابق ان کے کیریئر میں پہلی مرتبہ میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا۔ اس پر کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا قانون توڑ کر شفافیت لانے کی کوشش کی گئی؟ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت نوٹ کرے کہ معاملہ کس انداز میں چلایا جارہا تھا۔

پرویز احمد شیخ نے بتایا کہ پولیس نے ان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا، جس پر کمیشن نے ریمارکس دیے کہ پولیس کو فکر ہی نہیں تھی۔

دوسری جانب جبران ناصر نے کمیشن کو احمد بھردے اور میر رضا کے اہلخانہ کی ملاقات سے بھی آگاہ کیا۔ ان کے مطابق ملاقات ہفتے کے روز میر رضا کے گھر پر ہوئی جو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔

جبران ناصر کے مطابق اہلخانہ نے احمد بھردے کے سامنے تمام سوالات رکھے تاہم انہوں نے بیشتر معاملات سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ میر رضا کی والدہ کے مطابق سوالات کے تسلی بخش جوابات نہیں ملے، جس پر جبران ناصر نے ملاقات کو بے نتیجہ قرار دیا۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ لوگ بہت باتیں کرتے ہیں لیکن موقع ملنے پر کچھ نہیں کہتے، صرف کمیشن کو متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Related posts