ممکنہ لانگ مارچ: اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت، اہم شاہراہوں پر کنٹینرز نصب، ریڈ زون سیل
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں، مختلف شاہراہوں اور اہم مقامات پر 1200 کنٹینرز پہنچادیے گئے ہیں اور ریڈ زون کو چاروں طرف سے سیل کردیا گیا ہے جب کہ شہر کے تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ اور سیاسی جماعتوں کے دھرنے کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جب کہ دیگر صوبوں سے پولیس، ایف سی اور رینجرز کی نفری بھی اسلام آباد پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق اسلام آباد میں 22 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار فرائض انجام دیں گے، شہر کی سیکیورٹی کی نگرانی کے لیے 8 ڈی آئی جیز اور 10 ایس ایس پیز تعینات کیے گئے ہیں جب کہ 40 ایس پیز، 58 ڈی ایس پیز اور 246 انسپکٹرز مختلف سب سیکٹرز میں ڈیوٹی انجام دیں گے۔
ممکنہ مارچ کو روکنے کے لیے اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں اور اہم مقامات پر تقریباً 1200 کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں، جنہیں احکامات ملنے پر راستے بند کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
کنٹیرز کے ذریعے ریڈ زون کو چاروں اطراف سے سیل کردیا گیا ہے اور بعض مقامات پر کنٹینرز کی دہری تہہ لگا دی گئی ہے جب کہ ریڈ زون کے 5 داخلی راستوں میں سے فی الحال 2 راستے بند ہیں۔
ترنول، سنگجانی، شاہراہ ایران، 26 نمبر چنگی اور سری نگر ہائی وے کے اطراف بھی کنٹینرز موجود ہیں جب کہ ٹی چوک روات، فیض آباد اور اسلام آباد ایکسپریس وے پر بھی سیکیورٹی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔
موٹروے، ترنول اور سنگجانی سے ریڈ زون تک اہم شاہراہوں پر سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ بہارہ کہو کے مقام پر کنٹینرز لگا کر کشمیر سے آنے والے راستے بند کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے جب کہ ممکنہ صورت حال کے پیش نظر مارگلہ روڈ سے ریڈ زون کا راستہ بھی بند کیے جانے کا امکان ہے۔
امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد پولیس کے علاوہ پنجاب اور سندھ سے بھی 13 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی نفری طلب کی گئی ہے اور دیگر علاقوں سے ایف سی اور رینجرز اہلکار بھی اسلام آباد پہنچیں گے جب کہ سیکیورٹی اہلکاروں کے قیام کے لیے شہر کے تعلیمی اداروں کو استعمال کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں موجود 15 ہزار سے زائد کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی جب کہ ریستوران، سرائے اور ہوٹلوں کی بھی نگرانی جاری رہے گی۔ پولیس کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔
شہر کے داخلی راستوں پر چیکنگ مزید سخت کردی گئی ہے اور اہم گزرگاہوں پر اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں۔
دوسری جانب پشاور میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں موٹرسائیکل ریلی نکالی گئی۔ ریلی جی ٹی روڈ سے صوبائی اسمبلی چوک تک نکالی گئی جس میں ارکان قومی اسمبلی اور صوبائی وزرا نے شرکت کی۔
ریلی کے شرکا کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، جتنے مرضی کنٹینرز لگا لیے جائیں، وہ اسلام آباد پہنچیں گے۔