روشم خان قتل کیس کے ملزمان گرفتار، 19 روز بعد لواحقین کا دھرنا ختم

منگھوپیر میں 15 سالہ حافظِ قرآن اور میٹرک کے طالب علم روشم خان کے قتل کے خلاف 19 روز سے جاری لواحقین کا دھرنا ملزمان کی گرفتاری کے بعد ختم کردیا گیا۔

پولیس کے مطابق روشم خان قتل کیس میں دلاور عرف طارق اور رضوان عرف راجو کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ مقتول کے ورثا نے گرفتار ملزمان کو شناخت بھی کرلیا ہے۔

پولیس نے گرفتار ملزمان اور کیس میں ہونے والی تفتیشی پیش رفت سے مقتول کے والدین کو آگاہ کیا، جس کے بعد منگھوپیر تھانے کے باہر جاری احتجاج پولیس کی یقین دہانی اور ملزمان کی گرفتاری کے بعد ختم کردیا گیا۔

پولیس کے مطابق 15 سالہ روشم خان کو 8 ستمبر کو ڈکیتی میں مزاحمت پر قتل کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد مقتول کے لواحقین نے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے منگھوپیر تھانے کے باہر دھرنا دے رکھا تھا۔

ملزمان کی گرفتاری کے بعد 19 روز سے جاری احتجاج ختم کردیا گیا ہے، جبکہ مقتول روشم خان کی نماز جنازہ آج بعد نماز عصر منگھوپیر کے رمضان گوٹھ میں ادا کی جائے گی۔

Related posts