طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی گروہوں کی کارروائیاں، لڑائی کا دائرہ کمدیش سے کنڑ تک پھیل گیا
افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی آگئی ہے اور لڑائی کا دائرہ نورستان کے کمدیش سے پڑوسی صوبے کنڑ تک پھیل گیا ہے۔ مزاحمتی گروہوں کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں طالبان کے 9 اہلکار ہلاک، 11 زخمی جبکہ 9 لاپتا ہوگئے۔
رپورٹس کے مطابق نورستان کے کمدیش، کنڑ کے ناری اور گرد و نواح کے علاقوں میں طالبان اور افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
فریڈم فرنٹ کے مطابق 26 ستمبر کو کمدیش میں طالبان فورسز نے اس کے ٹھکانوں پر زمینی دستوں اور ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا، جس کے بعد مزاحمتی جنگجوؤں نے جوابی کارروائی کی۔
فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ جوابی کارروائی کے دوران طالبان کی متعدد چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا جبکہ طالبان فورسز کو ارندو اور کمدیش کے بعض علاقوں سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق لڑائی کا اثر کنڑ کے ناری ضلع تک بھی پہنچا ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شدید لڑائی کے دوران طالبان نے کنڑ سے کمدیش کی جانب اضافی کمک بھی منتقل کی، جبکہ جلال آباد میں ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں، ٹرکوں اور دیگر فوجی گاڑیوں کی نقل و حرکت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مزاحمتی ذرائع کے مطابق فریڈم فرنٹ اور مقامی مسلح افراد نے طالبان فورسز کے ٹھکانوں پر راکٹوں اور دیگر ہتھیاروں سے حملے کیے۔
رپورٹس میں مقامی افراد کے مسلح مزاحمتی گروہوں میں شامل ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان مخالف مقامی عناصر داعش میں بھی شامل ہورہے ہیں، تاہم اس حوالے سے بھی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق شدہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
افغانستان فریڈم فرنٹ اور دیگر مزاحمتی گروہوں کی حالیہ کارروائیوں کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں طالبان مخالف مسلح سرگرمیاں جاری ہیں۔ حالیہ جھڑپوں کے حوالے سے طالبان کی جانب سے بھی مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، جبکہ فریقین کے جانی نقصان اور زمینی پیش رفت سے متعلق اطلاعات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔