ایم ڈی کیٹ کے نتائج پر تحفظات: مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

کراچی میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) 2026 کے انعقاد اور نتائج پر سوالات اٹھ گئے ہیں، ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی عادل عسکری نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو خط لکھ کر امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ انکوائری اور مکمل امتحانی عمل کے آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایم ڈی کیٹ 2026 کے نتائج اور انعقاد پر شدید تحفظات سامنے آنے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی عادل عسکری نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ دیا ہے، جس میں امتحان کے انعقاد اور نتائج سے متعلق طلبہ کے تحفظات دور کرنے کے لیے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

عادل عسکری نے خط میں کہا ہے کہ ایم ڈی کیٹ کے امتحانی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سامنے آنے والی شکایات کی شفاف تحقیقات کی جائیں جب کہ مکمل امتحانی عمل کا آڈٹ بھی کرایا جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ امتحان مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہوا یا نہیں۔

خط میں امتحانی مراکز کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگز کا مکمل جائزہ لینے اور او ایم آر شیٹس کے نمونے دوبارہ آزادانہ طور پر چیک کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

رکن سندھ اسمبلی نے کہا کہ طلبہ کی جانب سے سامنے آنے والے تحفظات، شکایات اور مبینہ تضادات کی تحقیقات ضروری ہیں تاکہ نتائج کی شفافیت واضح ہوسکے۔ انہوں نے مستقبل میں ایم ڈی کیٹ سمیت اہم امتحانات کے انعقاد کے لیے آزاد اور پیشہ ورانہ امتحانی ادارہ قائم کرنے کی تجویز بھی دی۔

خط میں برٹش کونسل یا آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کی طرز پر آزاد امتحانی نظام قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ عادل عسکری نے موجودہ ایم ڈی کیٹ دوبارہ منعقد کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ایم ڈی کیٹ 2026 کے نتائج کا پس منظر

ایم ڈی کیٹ 2026 ملک بھر میں 20 ستمبر کو منعقد ہوا۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق امتحان 180 کثیر الانتخابی سوالات پر مشتمل تھا اور اس میں حیاتیات، کیمسٹری، فزکس، انگریزی اور منطقی استدلال کے سوالات شامل تھے۔

سندھ میں ایم ڈی کیٹ کا انعقاد سِبا ٹیسٹنگ سروسز نے کیا۔ سندھ کے نتائج جاری ہونے کے بعد 33 ہزار سے زائد امیدواروں کے امتحان میں شرکت کی اطلاع سامنے آئی ج بکہ 16 ہزار سے زائد امیدوار ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے لیے مقررہ معیار پر پورا اترے۔

رپورٹس کے مطابق سندھ میں ایم بی بی ایس میں داخلے کے لیے کم از کم 55 فیصد جب کہ بی ڈی ایس کے لیے 50 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہیں۔ نتائج پر سامنے آنے والی شکایات کے بعد سِبا ٹیسٹنگ سروسز نے حتمی نتائج جاری کرتے ہوئے کہا کہ موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ایم ڈی کیٹ کے نتائج سے متعلق اعتراضات اور شفافیت کے سوالات اس امتحان کے لیے نئے نہیں ہیں۔ گزشتہ برس قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے بھی ایم ڈی کیٹ 2024 کے نتائج میں غیر معمولی اسکورز اور مختلف جامعات کے نتائج میں فرق پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور بے ضابطگی ثابت ہونے کی صورت میں امتحان دوبارہ کرانے کی تجویز دی تھی۔

ایم ڈی کیٹ 2026 کے حوالے سے بھی طلبہ کی جانب سے نتائج اور امتحانی عمل سے متعلق شکایات سامنے آنے کے بعد سندھ میں آزادانہ تحقیقات اور مکمل آڈٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے تاہم عادل عسکری کی جانب سے لگائے گئے مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کا نتیجہ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

Related posts