ڈگری کا معاملہ: احسن بھون کا کیپٹن (ر) صفدر کو 5 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل محمد احسن بھون نے اپنی ایل ایل بی ڈگری کو جعلی قرار دینے سے متعلق مبینہ بیان پر کیپٹن (ر) محمد صفدر کو 5 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے، نوٹس میں بیان کو بے بنیاد، حقائق کے منافی اور ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے جب کہ مطالبات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی کا انتباہ بھی دیا گیا ہے۔

منگل کے روز سینئر وکیل محمد احسن بھون نے اپنی ایل ایل بی ڈگری سے متعلق کیپٹن (ر) محمد صفدر کے مبینہ بیان پر انہیں 5 ارب روپے کا قانونی نوٹس بھجوایا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ احسن بھون کی ایل ایل بی ڈگری کو جعلی قرار دینے سے متعلق مبینہ بیان بے بنیاد، حقائق کے منافی اور ہتک آمیز ہے، جس سے ان کی ساکھ، عزت اور پیشہ ورانہ حیثیت متاثر ہوئی۔

نوٹس کے مطابق محمد احسن بھون نے مارچ 1989 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی، جو رول نمبر 828 کے تحت جاری کی گئی تھی۔ پنجاب بار کونسل کے ریکارڈ کے مطابق وہ 1989 میں لوئر کورٹس کے ایڈووکیٹ اور 1992 میں ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ کے طور پر انرول ہوئے۔

نوٹس میں پنجاب بار کونسل کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ محمد احسن بھون 19 ستمبر 1989 کو لوئر کورٹس کے ایڈووکیٹ جب کہ 22 فروری 1992 کو ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ کے طور پر انرول ہوئے، بعد ازاں 19 جولائی 2003 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایڈووکیٹ کے طور پر ان کی انرولمنٹ ہوئی۔

قانونی نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات نے 21 جنوری 2026 کو محمد احسن بھون کی اسناد کی تصدیق کی۔

قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر 23 ستمبر کو احسن بھون کی ڈگری کا ریکارڈ موجود نہ ہونے سے متعلق کوئی بیان دے کر ڈگری کو جعلی قرار دیا گیا تھا تو وہ بیان فوری طور پر واپس لیا جائے۔ نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی عوامی بیان یا الزام کی بنیاد پر کسی ڈگری کی قانونی حیثیت طے نہیں کی جاسکتی۔

احسن بھون کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس میں کیپٹن (ر) محمد صفدر کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر مطالبات پر عمل نہ کیا گیا تو ان کے خلاف قانون کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے گی۔

کیپٹن (ر) صفدر کا مؤقف

دوسری جانب کیپٹن (ر) محمد صفدر نے احسن بھون کی ڈگری سے متعلق اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وکلا اپنی ڈگریاں دکھا دیں تو وہ ان سے معافی مانگیں گے۔

کیپٹن (ر) صفدر کے مطابق احسن بھون کے خلاف جوڈیشل کمیشن میں درخواست دی گئی ہے جب کہ سائبر کرائم سے متعلق بھی درخواست دی گئی ہے اور بعض عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا ہے۔

نوٹس کیوں بھجوایا گیا؟

یہ قانونی نوٹس کیپٹن (ر) محمد صفدر کے اس مبینہ بیان کے بعد بھجوایا گیا، جس میں محمد احسن بھون کی ایل ایل بی ڈگری کے ریکارڈ کی عدم موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے اسے جعلی قرار دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

احسن بھون نے اپنے قانونی نوٹس میں اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کردہ ایل ایل بی ڈگری اور پنجاب بار کونسل میں اپنی انرولمنٹ کا ریکارڈ پیش کیا ہے۔ نوٹس میں پنجاب یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات کی جانب سے 21 جنوری 2026 کو اسناد کی تصدیق کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس کے ذریعے کیپٹن (ر) صفدر سے مبینہ بیان واپس لینے اور 5 ارب روپے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، بصورت دیگر قانونی کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔

Related posts