فاطمہ زہرا مراکش کی پہلی خاتون وزیر اعظم مقرر

مراکش کے شاہ محمد ششم نے فاطمہ زہرا المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم مقرر کرتے ہوئے نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ ان کی جماعت نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں، جس کے بعد انہیں حکومت سازی کا موقع دیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، فاطمہ زہرا المنصوری کی جماعت صداقت اور جدیدیت پارٹی نے 395 رکنی پارلیمنٹ میں 97 نشستیں حاصل کیں۔ دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت 66 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔

تاہم، پارلیمنٹ میں کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی، اس لیے نئی حکومت بنانے کے لیے فاطمہ زہرا المنصوری کی جماعت کو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا۔

50 سالہ فاطمہ زہرا المنصوری اس سے قبل مراکش کی وزیر ہاؤسنگ کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ وہ مراکش شہر کی میئر بھی ہیں اور 2009 میں پہلی مرتبہ اس عہدے پر منتخب ہوئی تھیں۔ اس طرح وہ مراکش شہر کی پہلی خاتون میئر بھی بنی تھیں۔

سیاست میں طویل تجربہ رکھنے والی فاطمہ زہرا المنصوری کی بطور وزیر اعظم تقرری کو ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ مراکش کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہیں، جبکہ عرب دنیا میں اس منصب پر فائز ہونے والی دوسری خاتون بن گئی ہیں۔

مراکش میں آئینی بادشاہت کا نظام قائم ہے، جہاں شاہ محمد ششم کو اہم سیاسی اور حکومتی معاملات میں وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ ملک کی پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے، تاہم اقتدار اور اہم پالیسی فیصلوں میں بادشاہ کا کردار نمایاں ہے۔

2011 میں آئینی اصلاحات کے ذریعے پارلیمنٹ اور حکومت کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا تھا، لیکن اہم معاملات میں بادشاہ کے اختیارات برقرار ہیں۔ ایسے سیاسی نظام میں نئی حکومت کی تشکیل اور مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد حکومت کے مستقبل کے لیے اہم ہوگا۔

Related posts